توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 146
توہین رسالت کی سزا { 146 } قتل نہیں ہے بات یہیں نہیں ٹھہر جاتی کہ صحابہ نے صحابہ" پر 'سب کیا بلکہ روایات میں رسول اللہ صل الم کے بارہ میں لکھا ہے کہ آپ نے بھی 'سب کیا۔چنانچہ درج ذیل روایات ملاحظہ فرمائیں۔:1 فَسَبَّ رَسُولُ اللهِ عليه اللهم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوصِلَةَ“ ( بخاری کتاب اللباس باب وصل الشعر) کہ رسول اللہ صلی للی نیلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی پر 'سب کیا۔( اس کے معنے ترجموں میں لعنت کئے گئے ہیں۔) :2 قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله أَيَّمَا مُؤْمِنْ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلُهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةٌ ) تاریخ مدينة دمشق (ابن عساکر ( الجزء الرابع باب ذکر تواضعه لربه و رحمته لاكنه۔۔۔۔۔۔) که رسول اللہ صلی ال نیلم نے فرمایا کہ اگر کسی مومن کو میں نے سب کیا ہو ( برا کہا ہو ) یا لعنت کی ہو یا اسے پیٹا ہو تو میں اسے اس کے لئے اس کی پاکیزگی اور رحمت قرار دیتا ہوں۔اسی باب میں اس کے ساتھ متعدد روایات درج ہیں جن میں اس لفظ کے علاوہ شتمت“ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ تبوک کے سفر میں دو آدمیوں کے بارے میں آتا ہے : ” فَسَبَّهُمَا رَسُولُ الله صل الله ( مسند احمد بن حنبل مسند الانصار ، حضرت معاذ بن جبل) کہ رسول اللہ صلی اللہ ہم نے (چشمے پر آپ سے پہلے پہنچنے والے ) دو افراد پر ' سب‘ کیا۔ان کے علاوہ ایک روایت ” الصارم المسلول میں یہ بھی درج کی گئی ہے کہ " مَنْ سَبَّ أَصْحَابِ فَقَدْ سَبَّنِي، وَمَنْ سَبَّنِي فَقَدْ سَبَّ الله الصارم المسلول الجلد الثانی صفحہ 1082 مطبوعہ رمادی