توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 98
توہین رسالت کی سزا 98 } قتل نہیں ہے کر دار اور شخصیت وغیرہ پر بھی تفصیلی مواد جمع کر دیا ہے تاحق کے متلاشی اور تحقیق کے جو یاں کسی روایت کو اخذ کرنے میں غلطی نہ کھائیں۔لہذا ان روایات کو استعمال کرنے والوں کا فرض تھا کہ وہ بنیادی اصولوں پر قائم رہ کر ان روایات کی جانچ پڑتال کرتے اور صحیح اسلامی عقائد کے خلاف روایات کو استعمال نہ کرتے بلکہ ایسی روایات کو ترک کرتے جو قرآن کریم ، سنتِ رسول ا اور احادیث صحیحہ کے منافی وضع کی گئی تھیں۔مگر افسوس ہے کہ قرونِ ماضیہ میں بسا اوقات روایات کے ظاہر پر ہی انحصار کر کے توہین رسالت اور قتل مرتد وغیرہ جیسے ظالمانہ عقائد کی جی بھر کر ترویج کی گئی۔عکرمه (بربری): یہ حضرت عبد اللہ ابن عباس کا غلام تھا اور زیر بحث روایت کا بنیادی راوی یہی عکرمہ بربری ہے۔بلکہ بہت سی روایات جو اس طرز کی سزاؤں اور کشت و خون پر مشتمل ہیں ان میں اکثر جگہ یہی شخص کار فرما نظر آتا ہے۔جیسا کہ قارئین آئندہ بھی بعض روایات میں اس سے ملاقات کریں گے۔یہ شخص کون تھا؟ اس کا مقام کیا تھا؟ اس کی حیثیت اور حقیقت کیا تھی ؟ وغیرہ وغیرہ امور درج ذیل تعار فی سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔ا: فرماتے ہیں: امام ابنِ حجر عسقلانی اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں اسی عکرمہ کے تعارف میں تحریر یحی ابن معین کہتے ہیں کہ امام مالک نے عکرمہ سے صرف اس وجہ سے روایت نہیں لی کہ وہ صفر یہ فرقے کار کن تھا۔ابراہیم بن المنذر نے معن بن عیسی اور دوسرے لوگوں سے روایت کی ہے کہ امام مالک اسے غیر ثقہ قرار دیتے تھے اور اس سے روایت نہ کرتے تھے۔