توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 83 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 83

توہین رسالت کی سزا 83 } قتل نہیں ہے ایک شاتم یہودیہ آنحضرت صلی للہ ﷺ کو گالیاں دینے والی ایک یہودیہ کا قتل بھی عقیدہ قتل شاتم کے اثبات میں پیش کیا جاتا ہے۔تحقیق ثابت کرتی ہے کہ روایت قطعی طور پر جھوٹی ہے۔چنانچہ ملا علی قاریؒ نے ایسی ہی بے بنیاد ایک اور روایت بھی درج کی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس قسم کی بے بنیاد اور من گھڑت روایتیں جابجا نظر آتی ہیں۔وہ روایت یہ ہے کہ وَ رَوَى ابْنُ أَن شَيْبَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ رَجُلاً مِّنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ يَأْوِى إِلَى امْرَأَةٍ يَهُودِيَةٍ تُطْعِمُهُ وَ تُحْسِنُ إِلَيْهِ وَلَا تَزَالُ تُؤْذِيهِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَهَا فِي لَيْلَةٍ مِنَ اللَّيَالِيَ خَنْقَا فَرَفَعَ ذَلِكَ لَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَأَخْبَرَهُ الرَّجُلُ بِأَنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِيهِ فِيْهِ وَ تَسُبُّهُ وَ تَقَعُ فِيْهِ فَقَتَلَهَا لِذلِكَ اهْدَرَ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّم دَمَهَا۔“ ( شرح الشفا: القسم الرابع فی بیان ما ھو فی حقہ علیہ السلام سب او نقص صفحہ 406) کہ ایک مسلمان شخص ایک یہودیہ کے ہاں پناہ گزیں تھا جو اسے روٹی پانی دیتی تھی اور اس پر مہربان تھی مگر ہمیشہ رسول اللہ صلی ا یکم کے بارے میں اسے اذیت دیتی تھی۔چنانچہ ایک رات اس شخص نے اسے گلا گھونٹ کر مار دیا۔پھر اس نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ وہ عورت آپ کو گالیاں دے کر اسے اذیت دیتی تھی۔لہذا اس نے اسے قتل کر دیا۔اس پر آپ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیدیا۔