توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 82
توہین رسالت کی سزا ( 82 )- قتل نہیں ہے ہے۔چنانچہ اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے اسی محولہ بالا کتاب کے حاشیے میں ملا علی القاری نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ روایت بھی مصنف عبد الرزاق کی ہے۔امام همام عبد الرزاق کے بارے میں آگے ذکر آئے گا کہ وہ روایات وضع کرنے میں ید طولیٰ رکھتا تھا اور اسے ائمہ فن حدیث واقدی سے بھی پرلے درجے کا کذاب ثابت کر چکے ہیں۔لہذا یہ روایت کلی وضعی اور قطعی طور پر جھوٹی ہے۔اس روایت کی ابتداء ہی میں لفظ روی بتا رہا ہے کہ اس کا راوی مجہول و نامعلوم ہے۔لہذا واضح طور پر یہ غیر مستند ثابت ہوتی ہے۔یعنی اس روایت کا نہ کوئی راوی ہے اور نہ ہی اس عورت کا نام اور اتا پتا معلوم ہے جو قتل کی گئی۔پس اپنے جملہ کوائف کے نامعلوم اور مفقود ہونے کے باعث یہ روایت وضعی اور جعلی ہونے کے سوا اور کچھ نہیں۔لہذا بیک جنبش قلم رڈ ہو جاتی ہے۔ایسی روایات پر عقائد کی بنیادرکھنا پانی کی لہروں پر تحریر جمانے کی کوشش سے کم نہیں ہے۔*****