توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 79 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 79

توہین رسالت کی سزا ( 79 )- قتل نہیں ہے لیتے۔(مسلم کتاب الفضائل باب مباعدته امن الانام و اختیاره ) اسی طرح آپ نے تعزیری کارروائی صرف اس شخص پر کی جو کوئی عادی مجرم تھا اور اس کی طرز ایسی تھی کہ وہ آئندہ بھی ایسے جرم کا اعادہ کرنے والا تھا اور اس کا وجو د لازماً بہت سے فتنوں کا موجب بن سکتا تھا۔ان حقائق کے پیش نظر یہی بات صحیح ہے کہ آپ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کئی ایک روایات میں یہ ذکر بھی موجود ہے کہ اسے قتل کر دیا گیا تھا۔مثلاً ابو داؤد میں ہی ایسی دونوں روایتیں ایک ساتھ مذکور ہیں اس کے لئے دیکھیں ابو داؤد کتاب الديات باب ماجاء فى من سقى رجلاً دوسری روایت میں ہے کہ جب آنحضرت صلی الیم نے اس سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو وہ کہنے لگی کہ یہودی آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالی تمہیں ہر گزایسا نہیں کرنے دے گا۔“ اس نے کہا کہ کیا وہ آپ کو قتل نہیں کر سکتے ؟ آپ نے فرمایا : " نہیں۔“ (مسلم کتاب السلام باب التم) حضرت بشر بن البراء اس زہر کے اثر سے جانبر نہ ہو سکے۔اور جام شہادت نوش کر گئے۔اگر بظاہر متضاد ان دونوں روایات کو بیک وقت درست تسلیم کر لیا جائے تو ان میں پیداشدہ تضاد کا حل یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی علیم نے اسے معاف کیا تو اس وقت حضرت بشر زندہ تھے۔اس لئے اگر اسے اس وقت سزادی جاتی تو یہ سزا آپ کو زہر دینے کی وجہ سے آپ کی طرف سے انتقام سمجھی جاتی۔لیکن آپ نے اپنی رحیمانہ سنت کے تحت اس سے عفو و در گزر کا سلوک کیا اور اسے کچھ نہ کہا اور آئندہ بھی اسے کچھ نہ کہا جاتا لیکن اس کے بعد جب حضرت بشر کی وفات ہو گئی تو پھر اسے قصاص کے طور پر قتل کر دیا گیا۔واللہ اعلم