توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 78
توہین رسالت کی سزا { 78 } قتل نہیں ہے بقية امر خيبر امر الشاة المسمومة وواقدی) جب سب اکٹھے ہو کر کھانے کے لئے بیٹھے تو آپ نے اس گوشت سے ایک لقمہ لیا۔اسی لمحے دیگر صحابہ نے بھی اس گوشت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور بعض نے لقمے منہ میں بھی ڈال لئے۔حضرت بشر بن البر ا جو آپ کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بھی لقمہ لیا اور کھا لیا۔آنحضرت صلی اللہ یکم نے لقمہ ابھی تھوڑا ہی چبایا تھا کہ آپ کو زہر کا علم ہو گیا۔آپ نے فوراً سب صحابہ کو اس گوشت سے ہاتھ کھینچ لینے کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایا : ”دستی کی بڑی مجھے بتارہی ہے کہ اسے زہر میں بجھایا گیا ہے۔لیکن قبل اس کے کہ آپ اسے کھانے سے منع فرماتے ، حضرت بشر لقمہ نگل چکے تھے۔(زرقانی و ابن ہشام بقیہ امر خیبر امر الشاة المسمومة ) یہ بالکل واضح تھا کہ آنحضرت صلی الم کو قتل کرنے کی یہ ایک کھلی کھلی کوشش تھی۔چنانچہ آپ نے اس عورت کو بلوایا جس نے اس سازش کو عملی جامہ پہنایا تھا اور اس سے اس جرم کی وجہ دریافت فرمائی۔اس نے یہ عذر پیش کیا کہ آپ نے ان کی قوم کا جو حال کیا ہے، وہ آپ سے مخفی نہیں۔اس لئے انہوں نے سوچا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو وہ آپ سے نجات پا جائیں گے۔آنحضرت صلی ا ہم نے اسے در گزر فرمایا اور اس سے کوئی انتقام نہ لیا۔(ابو داؤد کتاب الديات باب فیمن سلفی جلا سا۔۔۔۔۔) ابو داؤد اور دیگر کتب میں مذکور روایات میں یہ کثرت سے مذکور ہے کہ آنحضرت صلی ایم نے اس یہودیہ سے در گزر فرمایا اور اس سے کوئی انتقام نہ لیا۔آپ کی مستقل سنت سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ نے ہمیشہ ظلم کا انتظام عفو سے لیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کسی نے آپ کو تکلیف بھی پہنچائی تو بھی آپ نے کبھی انتقام نہیں لیا۔ہاں جب کسی قابل احترام مقام یا چیز کی ہتک اور بے حرمتی کی جاتی جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہو تو آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر انتقام