توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 76
توہین رسالت کی سزا { 76 } قتل نہیں ہے تھی۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب کو کیوں قتل نہ کیا گیا؟ ان میں سے صرف ایک کو کیوں قتل کیا گیا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ قصہ ہی جھوٹا اور وضعی ہے۔غزوہ بدر میں عقبہ بن ابی معیط قید ہی نہ ہو ا تھا۔لہذا ممکن ہی نہ تھا کہ وہ قیدیوں میں شامل ہو تا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مستند ترین اور صحیح ترین مرفوع متصل روایات سے ثابت شدہ حقیقت یہ ہے کہ عقبہ بن ابی معیط بدر کی لڑائی کے دوران مبینہ طور پر قتل ہوا اور وہ ان مقتولوں میں سے تھا جنہیں بدر میں ہی ایک ہی گڑھے میں اکٹھا دبا دیا گیا تھا۔صحیح اور مکمل سند کے ساتھ صرف بخاری ہی میں یہ روایت تین مرتبہ بیان ہوئی ہے۔( بخاری کتاب الوضوء باب اذا القى على ظهر الصلى قذر وكتاب الصلوۃ باب المرأة تطرح عن المصلى شيئاً من الاذى وكتاب الجزية باب طرح جيف المشركين۔۔۔۔و ابن سعد ) پس یہ قصہ نہ روایت کے اعتبار سے درست ثابت ہو تا ہے ، نہ درایت کے لحاظ سے ، اور نہ ہی مستند تاریخی حقائق کے آئینے میں۔پس اس کی جنگی حالت کو شتم رسول کی سزا کے طور پر پیش کر نار سول اللہ ا کی پاک سیرت سے بدیانتی ہے۔*****