توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 65
توہین رسالت کی سزا ( 65 } قتل نہیں ہے تھا اور اس منصوبے پر تیاری کر رہا تھا کہ غزوہ احزاب کی طرح عرب کے وحشی قبائل پھر متحد ہو کر مدینے پر دھاوا بول دیں۔:+ عرب میں اُس وقت کوئی حکومت نہیں تھی کہ جس کے ذریعے دادرسی چاہی جاتی۔ہر قبیلہ اپنی جگہ آزاد اور مختار تھا۔مدینے میں رسول اللہ صلی علی کی خود عوام کے سربراہ تھے۔پس آپ کے فیصلے کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے جو تدبیر کی گئی وہاں کے حالات کے مطابق اس سے بہتر اور کوئی صورت نہیں تھی۔یہود پہلے سے اسلام کے خلاف بر سر پیکار تھے اور مسلمانوں اور یہود کے درمیان ایک نوع کی جنگ کی حالت قائم تھی۔♡: اس وقت ایسے حالات تھے کہ اگر کھلے طور پر یہود کے خلاف فوج کشی کی جاتی تو اس سے بہت بڑا جانی اور مالی نقصان ہوتا اور یہ امکان بھی موجود تھا کہ جنگ کی آگ وسیع ہو کر ملک گیر تباہی کا رنگ پیدا کر دے۔چنانچہ عملاً اور واقعاتی شہادتوں کے ساتھ یہ حقیقت ثابت ہو گئی کہ ایک فتنہ پرداز شخص کے قتل سے فریقین کے وسیع نقصان کی حفاظت ہو گئی۔*****