توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 64 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 64

توہین رسالت کی سزا { 64 | قتل نہیں ہے نے اُس پر ایک تیسر اوار کر کے اُسے قتل کر دیا۔اس کے بعد میں جلدی جلدی دروازے کھولتا ہوا مکان سے باہر نکل آیا، لیکن جب میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تو ابھی چند سیڑھیاں باقی تھیں کہ میں سمجھا کہ میں سب قدم اتر آیا ہوں۔چنانچہ میں اندھیرے میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی ( اور ایک روایت میں ہے کہ ٹانگ کا جوڑ اتر گیا ) مگر میں اُسے اپنی پگڑی سے باندھ کر گھسیٹتا ہو اباہر نکل گیا۔لیکن میں نے اپنے جی میں کہا کہ جب تک ابو رافع کے مرنے کا اطمینان نہ ہو جائے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔چنانچہ میں قلعے کے پاس ہی ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا۔جب صبح ہوئی تو قلعے کے اندر سے کسی کی آواز میرے کان میں آئی کہ ابو رافع تاجر حجاز فوت ہو گیا ہے۔اس کے بعد میں اُٹھا اور آہستہ آہستہ اپنے ساتھیوں میں آملا۔پھر ہم نے مدینے میں آکر آنحضرت صلی اللی علم کو ابو رافع کے قتل کی اطلاع دی۔“ ( بخاری کتاب المغازی باب مقتل ابی رافع ) ابو رافع کی خون آشام کارروائیاں تاریخ کا ایک کھلا ہو اور ق ہیں۔گزشتہ صفحات میں اس سے ملتے جلتے ایک واقعے میں ایک مفصل بحث مدینہ کے یہودی کعب بن اشرف کے قتل کے بیان میں گزر چکی ہے۔لہذا یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں۔اصولاً اس قدر بیان کافی ہے که ا: ۲ اس وقت مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں چاروں طرف سے مصیبت میں مبتلا تھے اور ہر طرف مخالفت کی آگ شعلہ زن تھی۔گویا سارا ملک مسلمانوں کو مٹانے کے لئے متحد ہو رہا تھا۔ایسے نازک وقت میں ابو رافع اس آگ پر تیل ڈال رہا تھا جو مسلمانوں کے خلاف مشتعل تھی اور اپنے اثر ورسوخ اور دولت سے عرب کے مختلف قبائل کو اسلام کے خلاف ابھار رہا