توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 59 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 59

توہین رسالت کی سزا ( 59 } قتل نہیں ہے داری کیوں ادا نہ کی۔حتی کہ آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہ نے بھی یہ ذمہ داری ادا نہیں ان کے اس قول میں عجیب تضاد ہے۔ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یوم رحمۃ للعالمین تھے۔لہذا آپ اپنی توہین پر در گزر فرما دیتے تھے، یہ آپ کی رحمت کا تقاضا تھا۔دوسری طرف یہ ہر جھوٹی ترین روایت کو بھی کھینچ کھینچ لاتے ہیں اور اس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا یکم توہین و تنقیص کرنے والے کو ضرور قتل کرواتے تھے۔یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے متضاد و متصادم ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ شاتم رسول کے قتل کا عقیدہ بے بنیاد ہے اور بعض مقاصد کے حصول کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے۔آج کا ایک دعویدار اگر یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور اس کی غیرت کا تقاضا ہے کہ وہ گستاخِ رسول کو معاف نہ کرے اور اسے قتل کر کے ہی دم لے تو وہ حقیقت میں پھیپھے کٹنی بنتا ہے اور رسول اللہ صلی علیم کے نام کی آڑ لے کر اپنے لئے ظلم و تشدد کے جواز پیدا کرتا ہے۔کیا صحابہ اپنے پیارے محبوب آقا کے لئے دنیا کے تمام مسلمانوں سے زیادہ غیرت رکھنے والے اور ناموس رسول کی حفاظت کرنے والے نہ تھے؟ اسی کے لئے انہوں نے کیا کیا قربانیاں نہیں کیں۔ان کے خون رسول اللہ صلی علی یم کی محبت میں سچائی کے باعث تلواروں تلے قربانیوں کے جانوروں کی طرح بہائے گئے۔وہ اپنی محبت میں صدق و صفار کھتے تھے اور آپ کے ناموس کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں پیش کرتے تھے۔مگر آج دوسروں کی جانوں کے در پئے یہ نام نہاد دعویدارانِ محبتِ رسول اپنے نعروں میں وحشت و خونخواری رکھتے ہیں۔یہ کسی طرح بھی ناموس رسول کے حوالے سے صحابہ سے ایک ذرہ بھر مشابہت کا نمونہ پیش نہیں کر سکتے۔کیونکہ وہ لوگ خود اپنی جانیں قربان کرنے والے تھے اور یہ دوسروں کی جانیں لینے والے ہیں۔