توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 38
توہین رسالت کی سزا ( 38 ) قتل نہیں ہے مگر آپ نے یہ نہیں کیا بلکہ صبر سے ہی کام لیا۔لہذا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی علیم کو حضرت داؤد علیہ السلام کی مثال پیش فرمائی اور طاقت کے استعمال کی بجائے صبر کی تلقین فرمائی۔پھر فرمایا: فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ “ (ق:40،41) ترجمہ: پس صبر کر اس پر جو وہ کہتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی ) تسبیح کر سورج کے طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے بھی۔اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس کی تسبیح کر اور سجدوں کے بعد بھی۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کی طرف سے توہین و تنقیص کارڈ عمل یہ سکھایا ہے کہ اس پر صبر کرنا ہے اور صبح و شام اور دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنی ہے۔کوئی غم و غصہ نہیں دکھانا۔کسی قسم کا جبر و جارحیت کا مظاہرہ نہیں کرنا۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیم کی تمام عمر شاہد ہے کہ آپ اس تعلیم پر ہر دم اور ہر لمحہ عمل پیرا تھے۔یہی مذکورہ بالا تعلیم درج ذیل آیت میں دوبارہ پیش فرمائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید انسان کے اندر سکینت اور رضا کی شمع روشن کرتی ہے: " فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبَّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى (طل:131) ترجمہ : پس جو وہ کہتے ہیں اس پر صبر کر اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے نیز رات کی گھڑیوں میں بھی تسبیح کر اور دن کے کناروں میں بھی تا کہ تو راضی ہو جائے۔