توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 350 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 350

توہین رسالت کی سزا 350 } قتل نہیں ہے اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ کوئی مصیبت زدہ عورت فریاد کر رہی ہے۔چنانچہ جہاز رک گیا۔ام حکیم ایک چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جہاز تک پہنچیں اور عکرمہ سے کہا: ” اے میرے چا کے بیٹے ! جِئْتُكَ مِنْ أَوْصَلِ النَّاسِ وَابَرِ النَّاسِ وَ خَيْرَ النَّاسِ۔کہ میں ایک ایسی ہستی کے پاس سے آئی ہوں جو صلہ رحمی میں سب سے بڑھ کر ہے۔احسان میں اُس کی کوئی نظیر نہیں۔انسانوں میں سے بہترین انسان ہے۔اپنے آپ کو ضائع نہ کرو۔میری بات مانو اور میرے ساتھ لگنے واپس چلو۔حضور نے آپ کو امان دے دی ہے۔چنانچہ عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس ملنے کی طرف چل پڑے۔یہاں صرف خون کی حفاظت ہی نہیں ، رسول اللہ صلی الی کام کے شرف انسانیت کے قیام کے انداز بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ابھی عکرمہ راستے ہی میں تھے کہ آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: عکرمہ واپس آرہا ہے۔اُس کے والد کو اس کے سامنے بُرا بھلا نہیں کہنا۔فَإِنَّ سَبَّ الْمَيِّتِ يُؤْذِى الْحَقِّ وَلَا يَلْحِقُ الْمَيِّتَ۔کہ مرنے والے کی برائی کرنے سے اُس کے زندہ رشتے داروں کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ بر اذکر میت تک نہیں پہنچتا اور نہ وہ سن سکتا ہے۔لہذا ایسے عبث فعل سے مومن کو بچنا چاہئے۔بہر حال عکرمہ ام حکیم کے ہمراہ مکے پہنچے اور رسول اللہ صلی للی نیم کی خدمت اقدس میں اُنہوں نے حاضر ہو کر عرض کی کہ عکرمہ حاضری کی اجازت چاہتے ہیں۔آپ یہ بات سن کر خوشی سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”ہاں ہاں دیر کیا ہے ؟ عکرمہ کو جلد لے آؤ۔“جب عکرمہ سامنے وو آئے تو آپ نے کہا: ” مَرْحَباً بِالرَّاكِبِ المُهَاجِرِ “ خوش آمدید اے مہاجر سوار! اتنا شاندار اعزاز دیکھ کر وہ حیرت میں ڈوب گئے اور عرض کی: ”میری بیوی ام حکیم کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔“ آپ نے فرمایا : ”وہ بالکل ٹھیک کہتی ہے۔“ یہاں عکرمہ کو وہ ساری