توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 348
توہین رسالت کی سزا 348 } قتل نہیں ہے اس فرمانِ رسول میں دیکھیں کہ کس طرح آپ ان لوگوں کے لئے اپنائیت کے جذبات رکھتے ہیں جو مسلمان نہیں تھے مگر اسلام کے معاہدہ امن کے تحت اس کی جغرافیائی حدود میں مقیم تھے۔ان کے خون اپنے خون کی طرح اور ان کے اموال اپنے اموال کی طرح قرار دیتے ہیں۔ان کے جان ، اموال ، خون اور دیگر امور کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری آپ نے لی ہوئی تھی۔یہ ہے وہ امن عالم کی ضامن عظیم تعلیم جو آپ نے اپنی امت کو دی ہے تاکہ وہ بھی خونریزی سے باز رہیں اور دیگر مذاہب واقوام کے افراد کے لئے پائیدار امن مہیا کرنے والے ہوں۔سزائے موت پر بھی سایہ عفو ور حمت : آپ نے فتح مکہ کے موقع پر بعض جنگی، قومی، محاربت یا قصاص کے مجرموں کے لئے سزائے موت کا اعلان بھی فرمایا۔ان کے جرائم ظالمانہ، محاربانہ ، سنگین اور بھیانک تھے۔ایسے افراد کم و بیش گیارہ تھے۔لیکن جب اس سزا پر تعمیل کا وقت آیا تو ان میں سے بھی سات کو نہ صرف معاف فرما دیا بلکہ ان کی ندامت اور توبہ کی وجہ سے بعض کی دلداری بھی فرمائی۔ان مجرموں میں سے جو عملاً قتل ہوئے ان میں سے صرف عبد اللہ بن خطل ایسا تھا جو اس موقع پر بھی محارب ہو کر قتال کے لئے نکلا تھا لہذا قتل ہوا۔باقی تین مقتول ایسے تھے جو ت مجسم صلی اللہ ہم تک پہنچنے سے قبل کسی نہ کسی کے ہاتھ لگ گئے تو قتل ہو گئے۔ورنہ دیگر سزاوار جو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی کے طلبگار ہوئے تھے ، آپ نے انہیں معاف فرما دیا تھا۔