توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 340 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 340

توہین رسالت کی سزا 340 } قتل نہیں ہے جائے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی اصل غرض و غایت ہے۔جو اسلِمُ تَسْلَمُ (امن کے معاہدے میں داخل ہو جاؤ تو تمہیں مستقل طور پر امن کی ضمانت مل جائے گی) کا عملی نمونہ ہو۔جس کے تحت سب قومیں معاہدوں کی پرامن فضا میں آکر ایک ایسے نظام کی اطاعت میں آجائیں جو ہر ایک کو شرطیہ امن اور اعلیٰ تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔رسول اللہ صلی للی نیلم کے ایسے معاہدے خطہ عرب اور پھر ساری دنیا کے لئے پائیدار امن و سلامتی کی نوید تھے جن سے ہر قوم و قبیلے کے افراد کے جانی و مالی اور انسانی حقوق کا تحفظ وابستہ تھا۔معاہدہ شکنی پر در گزر : یہود مدینہ نے بار بار میثاق مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کارروائیاں کیں مگر رسول اللہ صلی الم نے بھی انہیں بار بار معاف فرمایا۔4ھ میں یہود بنی نضیر نے آپ کو اپنے ہاں بلا کر آپ پر مکان کی چھت سے ایک بڑا پتھر آپ پر گرانے کی سازش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعے اس کی اطلاع دے کر آپ کی حفاظت فرمائی۔(ابن ہشام وابن سعد ) آپ نے انہیں بھی معاف کر دیا۔کیونکہ آپ انسانی خون کا تحفظ فرمانے والے اور انسانیت کو خون سے محفوظ رکھنے والے تھے۔قیام امن کے لئے ہر ممکنہ کوشش: رسول اللہ صلی اللی علم ہر ممکن امن و آشتی کے قیام کے لئے کوشش فرماتے تھے۔چنانچہ حدیبیہ میں معاہدے کے وقت آپ کا فرمانا تھا: "وَالَّذِی نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُوْنِ خُطَّةٌ يُعَظِمُوْنَ