توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 336
توہین رسالت کی سزا { 336 ) قتل نہیں ہے کاش! کوئی ایسی جرآت والا شخص ملے جو مجھے اپنی قوم میں لے جاکر رکھ سکے کیونکہ قریش نے مجھے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے روک رکھا ہے۔یہ پر تشدد اور جابرانہ سلوک تھا جو رسول اللہ صلی الیکم اور آپ کے متبعین کے ساتھ ملے والے روار کھتے تھے۔آپ کے اس فقرے کے تجزیے سے آپ کی سیرت کا یہ پہلو انتہائی روشن ہو کر سامنے آجاتا ہے کہ آپ اپنے جان، مال، اہل و عیال اور عزت و ناموس کی بات نہیں کرتے۔آپ یہاں اپنی کسی توہین کا شکوہ نہیں فرماتے۔بلکہ آپ کو غم ہے تو یہ کہ کتنے میں رہ کر آپ اپنے رب کریم کے پیغام کی تبلیغ نہیں کر سک رہے۔آپ کو اپنا سب کچھ چھوڑ کر کہیں جانے کی خواہش ہے تو صرف اس لئے کہ وہاں اپنے رب کے کلام کو لوگوں تک پہنچا سکیں۔آپ کی اس بیقراری کے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مدینے کا راستہ کھولا اور پھر آپ کے لئے ہر سمت شاہر اہیں کشادہ ہونے لگیں۔ذہنی اور جسمانی اذیت دینے والوں کو در گزر: طائف کے واقعے کا ذکر قبل ازیں گزر چکا ہے۔وہاں رسول اللہ صلی علی کم کی جو توہین اور تنقیص کی گئی وہ کسی سے مخفی نہیں۔وہاں آپ کو بدنی اذیت بھی دی گئی اور گالی گلوچ اور پیغام حق کو گستاخی کے ساتھ رڈ کر کے اصل ذہنی اذیت بھی دی گئی۔الغرض کو نسی گستاخی تھی جو آپ سے روا نہیں رکھی گئی۔اگر آپ اپنی توہین کا انتقام لینے والے ہوتے تو واپسی پر جب ملک الجبل نے آپ سے یہ عرض کی تھی کہ اگر آپ اجازت دیں تو وہ ان لوگوں کو پہاڑوں کے درمیان کچل دے تو آپ اسے منع نہ فرماتے اور ان گستاخوں کو یہ سزا دلوا کر رہتے۔مگر یہ آپ کے رؤوف و رحیم دل کا فیصلہ تھا کہ گالی گلوچ، ظلم و تشدد اور سنگباری کرنے والوں کو بھی زندہ رکھوایا اور آخر کار دعاؤں کے ذریعے اسلام میں داخل کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے کارآمد وجو د بنادیا۔