توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 310
توہین رسالت کی سزا 310 } قتل نہیں ہے غیر معمولی شخصیت کا تعلق ہے تو آپ کے بچپن اور جوانی کے حالات میں کسی ایک جگہ بھی ایسا ذکر نہیں ملے گا کہ آپ نے کسی ہم عمر کے ساتھ کوئی لڑائی جھگڑا یامار پیٹ تو کجا، اسے ذرہ بھر بھی دکھ دیا ہو۔یہانتک کہ گھر میں بھی کبھی کوئی ضد نہیں کی اور نہ ہی کسی تنگی پر حتی کہ بھوک پیاس پر بھی کبھی کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار یا احتجاج کیا۔چنانچہ آپ کی بچپن کی دایہ اور رضاعی ماں حضرت اُم ایمن بیان کرتی ہیں : ” میں نے نبی کریم صلی اللہ کل کو کبھی بھی بچپن میں یا بڑی عمر میں ) بھوک یا پیاس کی شکایت کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔(مدارج النبوة (فارسی) از شاه عبد الحق محدث دہلوی جلد 2 صفحہ 33 مطبوعہ مطبع فیض منشی نولکشور و (اردو) جلد 2 صفحہ 38 مطبوعہ شبیر برادر زاردو بازار لاہور۔2004ء ایڈیشن) رسول اللہ صلی ال ل و م بچپن میں اپنی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ کے ہاں بنو سعد میں رہے۔بچوں کے ساتھ کھیلے، بکریاں چرائیں اور گھر کے کام کاج کئے مگر ایک بار بھی کسی دھینگا مشتی اور کسی لڑائی جھگڑے میں ملوث نہیں ہوئے۔اپنی جوانی کے دور میں آپ کبھی کسی بیہودہ مجلس میں شریک نہیں ہوئے۔حتٰی کہ کہانیوں اور شعر و غزل کی مجلسوں میں بھی شرکت نہیں فرمائی۔آپ کے عنفوانِ شباب کے زمانے میں حرب فجار ہوئی جو بنو کنانہ بشمول قبیلہ قریش اور قبیلہ قیس عیلان بشمول بنو ہوازن ایک خونریز لڑائی تھی۔اس میں آپ اپنے چچاؤں کے ہمراہ تھے۔آپ اپنی عمر کے تقاضوں کے تحت لڑائی میں بھر پور حصہ لے سکتے تھے۔مگر امر واقعہ ہے کہ لڑائی میں آپ کی شمولیت بالکل محدود تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ قبائلی حلیف ہونے کے عہد کی وجہ سے آپ کو اس لڑائی میں شامل ہونا پڑا مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تحت آپ کو اس میں جو کر دار ملاوہ یہ تھا کہ آپ اپنے چچاؤں کو صرف تیر پکڑاتے تھے وبس۔یعنی عملاً آپ لڑائی میں