توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 305
توہین رسالت کی سزا { 305 ) قتل نہیں ہے حضرت امام احمد بن حنبل: ابو برزہ الا سلمی والی روایت، جس پر روایات والے باب میں تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔اس پر سنن ابی داؤد میں حضرت امام احمد بن حنبل کا یہ تبصرہ بھی لکھا ہے : 6 أَنْ لَمْ يَكُنْ لِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلًا إِلَّا بِإِحْدَى الثَّلَاثِ الَّتِي قَالَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ عو الله ، كفرٌ بَعْدَ إِيْمَانٍ أَوْ زِنَا بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ وَكَانَ لِلنَّبِيَّ أَنْ يقتل۔کہ حضرت ابو بکر اس شخص کو قتل کی سزا نہیں دے سکتے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی ال تیم نے ان تین کے علاوہ کسی مسلمان کا خون جائز قرار نہیں دیا۔یہ تین جرائم ہیں۔ایک وہ شادی شدہ جو زناکار ہو اسے سنگسار کیا جائے گا۔دوسرے وہ جو ( دین سے) اللہ اور اس کے رسول سے محاربت کا اعلان کر تا ہو انکل جائے، اسے قتل کیا جائے گا، یا صلیب پر لٹکایا جائے گا یا ملک بدر کیا جائے گا۔اور تیسرے وہ جو کسی کو قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔ہاں ان تینوں کے علاوہ کسی اور جرم پر اگر دے سکتے تھے تو رسول اللہ صل اللی یک اسے سزائے قتل دے سکتے تھے۔امام احمد بن حنبل کا یہ تبصرہ دو ٹوک فیصلہ کن اور انتہائی بصیرت افروز ہے جو واضح کرتا ہے کہ شاتم رسول اس فہرست میں شامل نہیں ہے جو خو درسول اللہ صلی اللہ ہم نے مرتب فرمائی ہے۔اس سے زیادہ اس روایت پر مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔گزشتہ باب میں اس پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔پس ان تین پہلوؤں کی موجودگی میں یہ کہنا کہ توہین رسالت کی سزا قتل پر امت کا اجماع ہے ایک ایک ایسا دعوی ہے جس کی بنیاد دھونس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔اس نام نہاد اجماع یا مبینہ دھونس میں اکابر ائمہ ہر گز شامل نہیں ہیں۔