توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 299
توہین رسالت کی سزا 299 | قتل نہیں ہے اَوْ يُنفَى مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسَا فَيُقْتَلُ بِهَا ( ابوداؤ د کتاب الحدود الحکم فیمن ارتز) که تین وجوہات میں سے کسی ایک کے صدور کے علاوہ کسی ایسے مسلمان کا خون جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود شریک نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ایک وہ جو شادی شدہ زناکار ہو ، اسے سنگسار کیا جائے گا۔دوسرے وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محاربت کا اعلان کرتا ہوا نکلے، اسے قتل کیا جائے گا، یا صلیب دیا جائے گا یا ملک بدر کیا جائے گا۔اور تیسرے وہ جو کسی کو قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔(یعنی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔) پس ثابت ہے کہ شارع اسلام رسول اللہ صلی نی یکم نے ان تین کے علاوہ کسی اور جرم میں قتل کی سزا مقرر نہیں فرمائی تو آپ سے آگے بڑھ کر یا آپ کی شریعت کے بر خلاف کسی اور جرم کی سزا میں کسی کو قتل کرنا جائز نہیں۔حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی عبد الله: حضرت ابو بکر کا موقف تو اوپر درج ہو چکا ہے۔باقی تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں کسی مستند اور صحیح روایت یا اثر سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے کسی گستاخ کو صرف گستاخی کی بناء پر قتل کیا ہو۔روایات صحیحہ میں ایک بھی ایسی روایت نہیں ہے۔(جو روایات اس سلسلے میں پیش کی گئی تھیں، ان کی حقیقت کیا تھی؟ یہ گزشتہ باب میں وضاحت کر دی گئی ہے )۔پس تمام خلفائے راشدین نے اس نام نہاد اجتماع میں شامل نہیں ہیں۔