توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 15 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 15

توہین رسالت کی سزا ( 15 } قتل نہیں ہے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ أَنَا وَرُسُلِن إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزيز (المجادلہ: 22) کہ اللہ نے لکھ چھوڑا ہے کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔یقینا اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبے والا ہے۔ان آیات میں قتل و غارت کی بجائے اتنا جواب دے دیا کہ ایسی گستاخی کرنے والے خود انتہائی ذلیل ہونے والے ہیں۔یہ ذلت ان کے قتل کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے غالب آجانے کی وجہ سے ہے۔اس کے نتیجے میں ان دشمنوں کی شکست اور نکبت ان کے مذموم ارادوں میں نامرادی کے باعث ساری دنیا کے سامنے ان کی ذلت کا مبینہ ثبوت ہے۔یہ ذلت ان کے قتل سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔پس قرآن کریم کی پیش فرمودہ واضح اور غیر مبہم تعلیمات کے ہوتے ہوئے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ احکامِ شریعت سے اور رسول اللہ صلی علیم سے آگے بڑھ کر خو د ظالمانہ احکام مرتب لفظ ' يُحَادِد کے معنی و مفہوم قرآن کریم کی سب سے مستند اور جامع لغت کے مصنف حضرت امام راغب نے يُحَادِد کے معنے اللہ اور رسول کے مخالف کے بیان فرمائے ہیں۔اس مخالفت کو يُعادِد یا يُعادون کے الفاظ سے بیان کرنا یا تو روکنے کے اعتبار سے ہے یا الْحَدِید (یعنی لوہے ) کے استعمال سے یعنی جنگ کی وجہ سے۔پھر امام راغب الحد کے معنے یہ لکھتے ہیں: "الْحَاجِزُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ الَّذِي يَمْنَعُ اخْتَلَاطَ أَحَدِهِمَا بِالآخِرِ کہ دو چیزوں کے درمیان ایسی روک جو اُن کو باہم ملنے سے روک