توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 14 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 14

توہین رسالت کی سزا { 14 |-- قتل نہیں ہے ایک اور آیت ہے۔حسب ذیل آیت کریمہ بھی گستاخ رسول کے قتل کی سزا کے ثبوت میں پیش کی جاتی "أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً فِيْهَا ذَلِكَ الْخِزْى العظيم (التوبہ: 63) ترجمہ : کیا انہیں علم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ لمبا عرصہ رہنے والا ہے۔وہ بہت بڑی رسوائی ہے۔اس کے ساتھ وہ یہ آیت بھی منسلک کرتے ہیں: "إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَبِكَ فِي الآذرينَ “ (المجادلہ: 21) کہ یقیناوہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔یہی انتہائی ذلیل لوگوں میں سے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزا جہنم کی آگ اور بہت بڑی رسوائی ، اس وقت تک لاگو نہیں ہو گی جب تک ایسے شخص کو وہ خود قتل نہ کر دیں۔حالانکہ اس آیت کو یا اس کے الفاظ کو جس رُخ سے بھی پرکھ لیں، اس میں کسی جگہ کوئی شائبہ تک موجود نہیں کہ شاتم رسول کی توہین کے مرتکب کو قتل کیا جائے۔اس آیت میں تو ایسے لوگوں کی جزاء جہنم قرار دی گئی ہے اور ذلت ورسوائی کی وعید دی گئی ہے جو رسول اللہ صلی علیکم کی مخالفت کرتے ہیں۔جب اللہ تعالی خود یہ رہنمائی فرماتا ہے کہ اس کی اور اس کے رسول صلی ا یکم سے دشمنی کرنے والوں کی یہ ذلت ورسوائی ان کے قتل سے نہیں ، ان کے مغلوب ہونے کی وجہ سے ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے اگلی آیت میں فرماتا ہے: