توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 13 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 13

توہین رسالت کی سزا { 13 } قتل نہیں ہے " كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَتُوكُمُ الأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ 0 ( ال عمران: 111،112) ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر ہوتا۔ان میں مومن بھی ہیں مگر اکثر ان میں سے فاسق لوگ ہیں۔وہ تمہیں ایک طرح کی اذیت کے سوا ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔اور اگر وہ تم سے قتال کریں گے تو ضرور تمہیں پیٹھ دکھا جائیں گے۔پھر وہ مدد نہیں دیئے جائیں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ امت کا منصب اور اس کا لائحہ عمل یہ بیان فرماتا ہے کہ تم لوگوں کی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے نکلے ہو۔ان کی مدد اور ان کے فائدے کے لئے نکلے ہو۔ان کو نقصان پہنچانا یا ان کا قتل و خون کرنا تمہارا کام نہیں ہے۔تم انہیں ہلاک کرنے کے لئے نہیں نکالے گئے۔کیونکہ تمہارے مخالف تمہیں صرف کچھ اذیت ہی دے سکتے ہیں۔اس سے بڑھ کر وہ کچھ نہیں کر سکتے۔وہ غلبہ اسلام سے متعلق تقدیر الہی میں کسی صورت میں بھی روک نہیں بن سکتے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غلبہ صبر اور توکل کرنے والے مومنوں ہی کا مقدر ہے۔لہذا ان کی طرف سے اذیت پر قتل و غارت کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی تمہیں اس کی کوئی تعلیم دی گئی ہے۔بلکہ یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ان کو معاف کرو اور ان کی بھلائی کرو اور ان کے لئے ہدایت کی راہیں واضح اور کشادہ کرو تا وہ ہدایت پا کر اللہ تعالیٰ کے دین کے معاون و مددگار بنیں۔