توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 257
توہین رسالت کی سزا { 257 ) قتل نہیں ہے امر واقعہ یہ ہے کہ اس واقعے کو کسی بھی پہلو سے دیکھ لیں۔اس سے ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ ایسی گستاخی کی سزا قتل سمجھتے تھے۔بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے کسی ایک، دو یا چند نے اپنے پیارے محبوب نبی صلی علیکم کے لئے محبت و غیرت میں غصے کی وجہ سے اس یہودی کو قتل کرنے کے لئے اجازت چاہی مگر رسول اللہ صلی نیلم نے اپنے واضح اور دوٹوک فیصلے سے ثابت فرمایا کہ ان کے اظہارِ غیرت کا یہ رُخ درست نہیں ہے۔لہذا آپ نے ان کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی۔آپ نے یہ ثابت فرمایا کہ حکم الہی کے مطابق ہر اذیت اور تکلیف کے وقت صبر اور عفو کا دامن نہیں چھوڑنا۔اپنے کسی عمل سے غیر وں کو یہ موقع نہیں دینا کہ وہ یہ بات کر سکیں کہ محمد (صلی ) اپنے لوگوں کو قتل کرواتے تھے۔جہانتک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ کوئی ایسی گالی نہ تھی کہ جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔( یعنی کوئی معیاری گالی ہو گی تو عہد ٹوٹے گا اور پھر عہد توڑنے والا قتل کیا جاتا ہے) یہ استدلال بھی غلط ہے۔کیونکہ ہلاکت کی بددعا بھی ایک بدترین گالی ہے۔اگر یہ گالی نہیں ہے تو اس کے بالمقابل باقی اکثر واقعات جنہیں وضعی روایات میں مختلف افراد کے قتل کی بنیاد بنایا گیا ہے ، ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی۔مثلاً ایک شخص اپنے مقصد کے حل کے لئے رسول اللہ ملی ایم کی طرف ایک خلاف واقعہ بات منسوب کرتا ہے تو اسے صرف اسی بات پر گستاخ قرار دے کر اسے قتل کرنے کے لئے لوگوں کو بھیجا جاتا ہے (دیکھیں روایت نمبر 12)۔اگر بنظر انصاف دیکھا جائے تو یہ معاملہ بد دعا سے کسی پہلو میں بھی سنگین نہ تھا۔مگر بقول الصارم۔۔۔۔۔اسے قتل کرایا گیا۔جبکہ اس کے بر عکس بد دعا دینے والے کو بچایا گیا۔الغرض اس کتاب میں اکثر ایسے واقعات درج کئے گئے ہیں جن میں ایسی کوئی بات نہ تھی کہ جس کی وجہ سے کسی کو قتل کیا جاتا۔مگر اس پر انتہائی تکلف کے ساتھ سب و شتم کا طغرہ سجا کر اسے بطور جو از پیش کیا گیا ہے۔