توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 239 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 239

توہین رسالت کی سزا { 239 ) قتل نہیں ہے جری فی تقسیم غنائم حنین۔صفحہ 123) ترجمہ : پس معلوم ہوا کہ جو رسول اللہ صلی للی کم کو اس طرح کلام سے اذیت پہنچائے ، اس کا قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے۔مگر رسول اللہ صلی ﷺ نے اسے اس خوف کی وجہ سے قتل نہ کیا کہ لوگ اسلام سے بدک جائیں گے جبکہ اسلام ضعف میں تھا۔یہ ایک انتہائی کمزور اور بودی دلیل ہے اور بتکرار پیش کی جاتی ہے۔’ الصارم۔۔۔کا یہ استدلال کسی طور پر اور کسی قیمت پر درست نہیں مانا جاسکتا۔کیونکہ رسول اللہ صلی الیکم نعوذ باللہ نعوذ باللہ دل میں کوئی منافقت رکھنے والے یا مداہنت کرنے والے تو نہیں تھے کہ بنیادی اصولوں کا کسی انجانے خوف کی وجہ سے سودا کر لیتے تھے۔پس یہ دلیل اپنی تمام تر نا معقولیت کی وجہ سے بیک جنبش قلم رڈ کئے جانے کے لائق ہے۔اس کے برعکس یہاں بھی رسول اللہ صلی للی یم کی ردائے عفو و در گز اور لطف و احسان کی وسعت ملاحظہ فرمائیں کہ گستاخیوں میں اخلاق و شرافت کی تمام حدود پھلانگ جانے والے شخص کو بھی لِئَلَّا يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ“ فرما کر اپنے اصحاب میں شامل رکھتے ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ لیکن آنحضرت صلی اللہ نام کے اس کلام کے پیش نظر ایک انتہائی اور اہم قابل غور بات یہ ہے کہ آپ کے رخ انور کو اور اسلام کے حسین اور پاک چہرے کو ہر ایسے فعل کی گرد سے بچانا ضروری ہے جو مذہب کی مبادیات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اسے داغدار کر دے۔آپ کی تعلیم اور اسلام کی شریعت کے اندر ایک کشش ہے جو قربانیوں پر استوار ہے اور جذبات کی انگیخت سے پاک ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی علی کم کاعبد اللہ بن ابی بن سلول سے سلوک یا اس کے بارے میں آپ کا یہ فیصلہ الصارم۔۔۔۔۔میں مذکور قتل شاتم والے نظریئے کا بذاتِ خودرڈ