توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 211 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 211

توہین رسالت کی سزا { 211} قتل نہیں ہے موسمن اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے : الصارم۔۔۔۔صفحات 109 تا 113 پر زیر عنوان ” فِعْلُ عَقِيْلِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ بِدُورِ النَّبی وَ آقَارِبہ “ میں آنحضرت صلی اللہ نیم کے اس ارشاد کو ایک مستقل قانون کی حیثیت سے لیا گیا ہے۔نیز آخر میں اس سے گالی والے مسئلے کا بھی استدلال کیا ہے۔چنانچہ آپ کا مذکورہ بالا ارشاد اس طور پر تحریر کر کے لکھا ہے: ” آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہنوز مکانات اس (حضرت علی کے بھائی عقیل) کے قبضے میں ہیں اور تقسیم نہیں ہوئے تو ہم تمام مکانات اسی کو دے دیں گے اور اس کے بھائیوں کو نہیں دیں گے۔اس لئے کہ وہ ایک غیر مقسوم میراث ہے۔لہذا اب اسے اسلامی احکامات کے مطابق تقسیم کیا جائے گا اور اسلامی تقسیم کی رُو سے ایک مسلم کا فر کا وارث نہیں ہو تا۔اگر چہ یہ حکم ابو طالب کی وفات کے بعد نازل ہوا، چونکہ ترکہ اس وقت تک تقسیم نہیں ہوا تھا اس لئے اسے اسلامی احکام کے مطابق تقسیم کیا جا سکتا تھا۔لہذار سول کریم صلی ایم نے واضح کیا کہ جعفر اور علی کو ابو طالب کی وراثت سے حصہ طلب کرنے کا کوئی حق نہیں۔اگر چہ جائیداد موجود ہو اور جب ان سے فی سبیل اللہ لی گئی تو اب وہ اسے کیونکر واپس لے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح اس سے ان گالیوں کا بھی محاسبہ نہیں کیا جائے گا جو اس سے دورِ جاہلیت میں صادر ہوئیں، بنابریں ان لوگوں کو معاف کر دیا جائے گا۔“ (الصارم۔۔۔۔۔113,112) اس مکمل بحث میں ورثے کی بابت جو توجیہات پیش کی گئی ہیں، وہ قرآنی قوانین وراثت سے واضح طور پر ٹکراتی ہیں۔قبل اس کے کہ اس بحث کی سمت چلیں، ذرا یہ دیکھتے ہیں کہ اس ارشاد نبوی کی تفصیل اور اس کا منظر اور پس منظر کیا ہے ؟