توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 169
توہین رسالت کی سزا { 169 } قتل نہیں ہے کی جھوٹی دلیل پیش کرنے والے کی یہ نظیر توڑ کر رکھ دی ہے۔مثلاً امام بخاری نے مرفوع متصل سند سے اس آیت کے تحت کتاب التفسیر میں حضرت عروہ سے روایت درج کی ہے جس میں حضرت زبیر اور ایک انصاری کا کھیتوں کے پانی کے سلسلے میں ایک تنازعہ تھا۔اس پر حضرت زبیر کا خیال تھا کہ یہ مذکورہ بالا آیت اس بارہ میں نازل ہوئی تھی۔بخاری کی روایت مرفوع متصل یعنی ایک اعلیٰ درجہ کی روایت ہے۔اس کے مطابق یہودی اور منافق والا واقعہ نہیں ہوا اور نہ کسی ایسے واقعے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۔بلکہ یہ واقعہ حضرت زبیر اور ایک انصاری کے تنازعہ پر مبنی تھا۔پس مصنف نے ریت کی طرح گر جانے والی وضعی روایات پر اپنے موقف کو استوار کر کے جھوٹا موقف قائم کیا ہے۔پھر یہی منافق اور یہودی کے تنازعے والا واقعہ جو تفسیر روح المعانی کے حوالہ سے پیش کیا گیا ہے ، کتاب ”الصارم المسلول۔۔۔۔۔“ (جلد 2 صفحہ 41 المسئلة الثالثيه باب الوجوه الدالة على جواز قتل المنافقين اذا ثبت بالبینۃ ) میں بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس موقع پر سورۃ النساء کی آیت نمبر 61 " أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ۔۔۔۔۔۔الخ نازل ہوئی تھی اور جبریل نے کہا تھا کہ عمرؓ نے حق اور باطل میں فرق کر دکھایا ہے۔پس آپ کا نام فاروق ہو گیا۔علامہ الوسی نے روح المعانی میں اس یعنی آیت نمبر 61 کا ایک اور شانِ نزول بھی بتایا ہے کہ یہ ابو برزہ الا سلمی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔وہ کا ہن تھا اور یہود میں فیصلے کیا کرتا تھا اور اس غرض سے مسلمان بھی اس کے پاس جاتے تھے۔( یہ ابوبرزہ وہی ہیں جن کا ذکر روایت نمبر 15 میں بھی گزر چکا ہے)