توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 168 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 168

توہین رسالت کی سزا 168 | قتل نہیں ہے مصنف نے جو آیت اپنی کتاب میں بشر اور یہودی والے مذکورہ بالا واقعہ کے شانِ نزول کے طور پر پیش کی ہے ، تفسیر روح المعانی میں اس کا صرف حوالہ موجود ہے۔جبکہ اس میں مذکور واقعہ سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیت نمبر 66 کی بجائے اسی سورۃ کی حسب ذیل آیت نمبر 61 کے تحت درج ہے۔أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيْدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلُّهُمْ ضَلالاً بَعِيداً“ ترجمہ: کیا تو نے ان لوگوں کے حال پر نظر کی ہے جو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو تجھ پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے اتارا گیا۔وہ چاہتے ہیں کہ فیصلے شیطان سے کروائیں جبکہ انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اس کا انکار کریں۔اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ انہیں دور کی گمراہی میں بہکا دے۔پس ظاہر ہے کہ اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے مصنف نے آیت کے تعین میں غلطی کھائی ہے یا جان بوجھ کر وہ آیت پیش کر دی ہے جس سے اس کے گمان میں اس کا مقصد بر آتا تھا۔پھر یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں مصنف تفسیر روح المعانی علامہ الوسی نے بشر اور یہودی والی روایت کے استناد کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔لیکن جو آیت 66 مصنف نے اپنی دلیل کے لئے پیش کی ہے اس کے تحت جو واقعہ تفسیر روح المعانی میں درج ہے وہ مذکورہ بالا واقعے سے کل یہ مختلف ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ در حقیقت قطعی طور پر وہی سچا واقعہ ہے۔اس کے استناد کے لئے علامہ الوسی نے بڑے وثوق اور طمطراق کے ساتھ صحاح ستہ کے سب مصنفین کے نام درج کئے ہیں۔صحاح ستہ مرتب کرنے والے ان سب محدثین نے یہ واقعہ لے کر سزائے موت