توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 167
توہین رسالت کی سزا { 167 } قتل نہیں ہے 25 منافق کی گردن کشی ایک روایت تفسیر روح المعانی سے یہ پیش کی جاتی ہے کہ عبد اللہ بن عباس کی سند سے روایت ہے کہ بشر نامی ایک منافق کا کسی یہودی سے کسی معاملے میں تنازعہ تھا۔یہودی نے فیصلے کے لئے رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس اور منافق نے اسے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا۔بہر حال دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا۔منافق اس فیصلے پر راضی نہ تھا۔چنانچہ وہ تنازعہ حضرت عمر کے پاس لے گیا۔یہودی نے حضرت عمر کو بتادیا کہ رسول پاک صلی علیہ یکم پہلے ہی اس کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں۔یہ شخص اس پر راضی نہ تھا۔اس پر حضرت عمرؓ نے منافق سے پوچھا کہ کیا ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا: ”ہاں“۔حضرت عمر اندر گئے، اپنی تلوار لی اور آکر منافق کو قتل کر دیا اور کہا: ”جو رسول اللہ صلی ال یکم کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اس شخص کے لئے میرا یہی فیصلہ ہے۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً (النساء: 66 ) ترجمہ: پس نہیں، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس سے اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔وو اس روایت کو پیش کرنے والا مصنف لکھتا ہے۔" حضرت عمرؓ کے اس عمل کی قرآن کریم نے توثیق کی اور یہ اہانت رسول پاک کے لئے سزائے موت کی نظیر ہے۔“ ( ناموس رسول اور قانونِ توہین رسالت صفحہ 98 اور 346)