توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 165
توہین رسالت کی سزا { 165} قتل نہیں ہے ہو سکی تھی۔اسی طرح انہوں نے بعد میں کوئی خاص دینی تعلیم بھی حاصل نہ کی تھی اور نہ ہی نیکی و تقوی میں ان کا کوئی مقام تھا۔وہ ابھی اپنی عمر کے چوتھے سال میں تھے کہ حضرت ابو بکر بھی فوت ہو گئے۔لہذا انہیں اپنے مقدس باپ کی تربیت بھی نصیب نہ ہو سکی۔مورخین نے لکھا ہے کہ ان کے بزرگ باپ کے سبب لوگ ان کا ادب کرتے تھے جس سے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ معاشرے میں کوئی خاص حیثیت یا مقام کے حامل ہیں۔ورنہ در حقیقت انہیں کسی قسم کی کوئی سبقت حاصل نہ تھی۔بعد میں بد بد قسمتی سے یہ عبد اللہ بن سبا کے ساتھ باغیوں کے گروہ میں شامل ہو کر خلیفہ الرسول حضرت عثمان کی مخالفت کرنے والوں کے سرغنہ تھے۔بالآخر جب باغی حضرت عثمان کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر کو دے تو ان میں محمد بن ابی بکر بھی پیش پیش تھے۔یہ وہی تھے جو توہین خلیفۃ الرسول میں گستاخی کی تمام حدوں کے ساتھ ساتھ آپ کے گھر کی دیوار بھی پھلانگ گئے تھے۔یہ وہی تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا تھا۔مگر افسوس ہے کہ ایسی توہین خلافت راشدہ کے مرتکب لوگ آج قتل وخون کی ہولیاں کھیلنے والے خونخواروں کے پیشوا بن رہے ہیں۔ایک طرف یہ لوگ ایسی وضعی روایتیں پیش کرتے ہیں کہ جو صحابی کو گالی دے اسے کوڑے مارو اور دوسری طرف اسی لمحے ایسے مقدس صحابی کی جو نہ صرف دامادِ رسول تھا بلکہ راشد خلیفۃ الرسول بھی تھا، ممکن حد تک تو ہین بلکہ تذلیل کے مر تکب شخص کو اپنا ہیر وبلکہ بہترین اسوہ قرار دے رہے ہیں۔افسوس صد افسوس! کیا اس روایت کے مطابق حضرت عثمان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کی وجہ سے محمد بن ابی بکر خود کوڑوں کی سزا کے مستحق نہ تھے ؟