توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 1 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 1

توہین رسالت کی سزا باب اوّل { 1 - قتل نہیں ہے وہ آیات جو توہین رسالت کی سزا قتل کے لئے پیش کی جاتی ہیں ***** قرآن کریم کسی نبی کے شاتم یعنی اس کو گالی دینے والے یا اس کی توہین کے مر تکب کے قتل کے نظریئے کو کلیہ کر ڈکرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے نظریئے کی حقیقی دلیل کے طور پر پیش کی جاسکتی ہو۔بنیادی طور پر یہی ایک مضبوط دلیل اور منطقی پہلو ہے جس کے تحت احادیث صحیحہ میں بھی کوئی ایسی روایت نہیں ملتی جس میں یہ مذکور ہو کہ رسول کریم صلی الیم نے کسی کو صرف اور صرف سب وشتم کی وجہ سے قتل کیا تھا یا کرایا تھا۔یہ اور بات ہے کہ بعض لوگ ایسے تھے کہ جن کے دیگر سنگین جرائم انہیں سزاوار قتل ٹھہراتے تھے تو انہیں ان جرائم کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔مگر ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کو محض سب و شتم کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی تھی یا اسے قتل کیا گیا تھا۔یہ ایک نہایت واضح اور حقیقت افروز مطالعہ ہے جو جملہ حقائق و دلائل کے ہمراہ آئندہ ابواب میں پیش ہو گا۔چونکہ توہین رسالت کی سزا کے لئے قتل کی تعلیم قطعی طور پر قرآن کریم میں موجود نہیں ہے۔لہذا جو آیت کریمہ بھی اس نظریئے کے قائلین اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں وہ دُور کی کوڑی لاتے ہیں۔کیونکہ عبارۃ النص اور دلالۃ النص تو کیا ایسا نظر یہ اشارة النص سے بھی ہر گز ثابت نہیں ہو تا۔لہذاوہ اپنے وحشیانہ نظریات کے تحت ان آیات کے ایسے مفہوم نکالتے ہیں جن کو قرآن کریم واضح طور پر رد کرتا ہے اور اسوہ رسول صلی للی کم کا ان -