توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 148
توہین رسالت کی سزا 148 قتل نہیں ہے سب اس لفظ کا عام معنی گالی کیا گیا ہے اور عرب لغات میں بھی بنیادی معنی یہی ہے۔مگر اس کے ساتھ اس کے معنے العار یعنی عیب زنی اور تقاطع یعنی تعلق منقطع کرنے کے بھی ہیں۔اس کے معنے بے عزیتی کے بھی کئے گئے ہیں۔امام راغب ” نے اس کے معنوں میں بیہودہ ، بے مقصد بات اور نا مناسب الفاظ بھی تحریر کئے ہیں۔احترام، عقیدت، نقرس اور بلند مقام کا تقاضا ہے کہ اگر صحابہ کی طرف سے لفظ 'سب ادا ہو تو اس کے نرم ترین معنے لینا ہی مناسب ہیں۔وہاں گالی کے معنے نہیں لئے جاسکتے۔حدیث اور سیرت کی کتابوں میں درج ہے کہ رسول اللہ صلی ا کرم کی زبان مبارک سے بھی یہ لفظ ' سب ادا ہوا ہے۔لیکن یہ ایک سچائی ہے کہ جب یہ لفظ رسول اللہ صلی للی کم استعمال فرماتے ہیں تو اس کے نرم ترین معنے ہی لینے ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہاں عام گالی والے معنے لئے جائیں گے۔کیونکہ رسول اللہ صلی علی کم تو کجا، کوئی نبی بھی گالی نہیں دیتا۔لہذا سب کے محاوراتی معنے اختیار کرنے ضروری ہیں۔اسی طرح کوئی شخص اگر نبی کریم ملی یم یا کسی اور نبی پر سب کرتا ہے تو اس جگہ بھی ان کے لئے نرم ترین معنے لینے ہوں گے۔کیونکہ کوئی گالی رسول کریم صلی للہ کم و یا دیگر انبیاء علیہم السلام کو نہیں پہنچتی۔: نبياً یہاں نبی نکرہ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی بھی نبی۔یعنی صرف رسول کریم صل ا ل کر نہیں بلکہ تمام نبی۔اگر یہاں مقصود صرف رسول اللہ صلی للی کم ہوتے تو لفظ نبیا کی بجائے النَّبِی" یعنی معرفہ ہو تا تو فقرہ یوں ہوتا ” مَنْ سَبَ النَّبِيَّ فَاقْتُلُوهُ “۔پس اس کی نحوی ترکیب کی وجہ سے یہاں معنے یہ لئے جائیں گے کہ کسی بھی نبی کو کوئی برا بھلا کہتا ہے یا گالی دیتا ہے تو فاقتلوہ۔اس روایت کے یہ لازمی معنے ہیں۔چنانچہ ہر اس شخص کو جو آنحضرت صلی للی نیم