توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 134
توہین رسالت کی سزا :17 ابن خطل کی دو داشتائیں 134} قتل نہیں ہے ابن خطل کی لونڈیوں کے قتل کے حکم کو بھی سب و شتم کی ذیل میں درج کیا گیا ہے۔الله (ناموس رسول صلی یم اور قانون توہین رسالت صفحہ 183 182) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ان کے واقعات کی حقیقت یہ تھی کہ وہ ابنِ خطل کی ہمنوا اور آلہ کار ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ اس کے جرموں میں برابر کی شریک تھیں۔وہ اشاعت فاحشہ کی مرتکب تھیں۔محفلیں لگا لگا کر اس کی ہجو یہ شاعری گاتیں اور آنحضرت صلی یکم کے خلاف اور اسلام کے خلاف اشتعال پیدا کرتی تھیں۔اپنے آقا ابن خطل کے ساتھ اس مسلسل کھلی کھلی محار بانہ اور باغیانہ کارروائیوں کی وجہ سے یہ بھی سزائے قتل کی مستوجب تھیں۔ان کی کارروائیاں واضح طور پر فساد فی الارض کا موجب تھیں۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں ایک قتل کی گئی تو دوسری جس کا نام سارہ تھا، فرار ہو گئی۔اس نے بعد میں آنحضرت صلی للی نام سے امان کی التجا کی جسے آپ نے قبول فرمایا اور اس سے عفو کا سلوک فرمایا۔بعد میں وہ مسلمان ہو گئی۔(السیرۃ الحلبیہ فتح مکہ ) بعض تواریخ میں ایک کا نام ارنب اور دوسری کا اتم سعد آیا ہے۔( تاریخ الخمیس غزوہ فتح مکہ ) رسول اللہ صلی ال نیلم کے طبعی اور فطرتی رحیمانہ مزاج اور خصوصاً اُن دنوں آپ کے بے پایاں عفو کے آئینے میں یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہے کہ ان دونوں میں سے جو قتل کی گئی اگر وہ قتل سے پہلے آکر آپ سے معافی طلب کر لیتی تو آپ لازماً اسے بھی اپنی وسیع چادرِ عفو ور حمت میں ڈھانپ لیتے۔مگر اسے یہ موقع نہ مل سکا اور کسی کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔اگر بعض لوگوں کے نزدیک شاتم رسول کی سزا قتل ہے تو یہاں ایک کا قتل نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ ان کا یہ دعوی درست نہیں ہے۔کیونکہ شریعت کے ایک حکم کے خلاف بلکہ بقول ان کے اللہ تعالیٰ کی قائم کر وہ ایک حد کے منافی رسول اللہ صلی الیکم دوسری کو ہر گز معاف نہ