توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 129
توہین رسالت کی سزا 129 | قتل نہیں ہے رسول سے محاربت کرتا ہو انکل جائے ، اسے قتل کیا جائے گا، یا صلیب پر لٹکایا جائے گا یا ملک بدر کیا جائے گا۔اور تیسرے، وہ جو کسی کو قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔ان تین سزاؤں میں توہین یا سب و شتم کی سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے۔رسول اللہ صلی الیکم نے اگر شاتم کے لئے قتل کی سزا مقرر نہیں فرمائی تو آپ کے بعد اسے مقرر کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو برزہ الا سلمی والی اس زیر بحث روایت پر ابو داؤد میں اسی جگہ حضرت امام احمد بن حنبل کا حسب ذیل تبصرہ بھی تحریر ہے۔آپ فرماتے ہیں : 6 أَنْ لَمْ يَكُنْ لِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلًا إِلَّا بِإِحْدَى الثَّلَاثِ الَّتِي قَالَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ عليه السلام ، كُفر بَعْدَ إِيْمَانِ أَوْ زِنَا بَعْدَ اِحْصَانٍ أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ وَكَانَ لِلنَّبِيَّ أَنْ يقتل۔کہ حضرت ابو بکر اس شخص کو قتل کی سزا نہیں دے سکتے تھے کیونکہ رسول اللہ صلى الم نے ان تین کے علاوہ کسی مسلمان کا خون جائز قرار نہیں دیا۔ہاں رسول اللہ صلی علی کم اسے یہ سزائے قتل دے سکتے تھے۔امام احمد بن حنبل کا یہ تبصرہ بہت خوبصورت، سچا اور انتہائی بصیرت افروز ہے۔اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ تو نبی کا جانشین ہوتا ہے۔وہ اس کی تعلیم کو نافذ کرنے والا ہوتا ہے ، وہ اسے تبدیل نہیں کرتا۔پس خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ رسول اللہ صل الم کے بتائے ہوئے تین امور سے آگے جا کر ایک اور امر پر کسی کے قتل کا فیصلہ صادر فرماتے۔سبحان اللہ ! یہ بہت ہی خوبصورت تشریح ہے جو امام احمد بن حنبل نے بیان فرمائی ہے۔یہ ان دیگر تمام روایتوں پر ایک روشن رہنمائی کی حیثیت رکھتی ہے جن کو توہین رسالت کی ظالمانہ