توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 128
توہین رسالت کی سزا 128 } قتل نہیں ہے کے موقع پر بھی کسی شاتم کو قتل نہیں کرنا۔یعنی قتل کی اجازت ہر گز نہیں ہے۔پس اس نظیر کے ہوتے ہوئے حضرت ابو بکر کے بیان فرمودہ لفظ ھذا کے معنے یہ قرار پاتے ہیں کہ ایسے جذبات غیرت و محبت کا اظہار صرف رسول اللہ صلی لیلی کام کے لئے ہونا چاہیئے۔کسی دوسرے کے لئے نہیں۔دوسرا پہلو جو حضرت ابو بکر نے اپنے بیان لَمْ تَكُنْ لاَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ على الله میں واضح فرمایا ہے، یہ ہے کہ کسی غلطی، جرم یا گناہ پر قتل کی سزا مقرر کرنے کا اختیار صرف رسول اللہ صلی الیم کو تھا۔آپ شارع تھے۔اس حق کی بنا پر یہ آپ ہی کر سکتے تھے۔آپ کے بعد یہ حق کسی کو نہیں دیا گیا حتی کہ خلیفہ راشد کو بھی نہیں دیا گیا۔حضرت ابو بکر کے اس قول سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ آپ نے امت پر واضح فرمایا ہے کہ جن جرائم کے قتل کا ارشاد رسول اللہ لی ایم نے فرمایا ہے، ان کے سوا کسی اور جرم کی سزا قتل نہیں ہے۔چنانچہ جن افراد کے قتل کا ذکر آپ نے بیان فرمایا ہے ، یہ تین لوگ ہیں۔جن میں گستاخ رسول یا شاتم رسول کا کسی روایت میں، کسی جگہ ، کوئی ذکر نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں: لا يَحِلُّ دَمُ امْرِيءٍ مُّسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ اِحْصَانٍ فَإِنَّهُ يُرْجَمُ وَ رَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِباً لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنفَى مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا ( ابو داؤد کتاب الحدود الحکم فیمن ارتد) کہ تین وجوہات میں سے کسی ایک کے صدور کے علاوہ کسی ایسے مسلمان کا خون جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود شریک نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ایک، وہ زناکار جو شادی شدہ ہو اسے سنگسار کیا جائے گا۔دوسرے ، وہ جو ( دین سے) اللہ اور اس کے