توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 113 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 113

توہین رسالت کی سزا { 113 ) قتل نہیں ہے 12 آنحضرت صلی الیکم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والا وَ رُوِيَ أَنَّ رَجُلاً كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ علاه والله فَبَعَثَ عَلِيّاً وَ الزُّبَيْرَ إِلَيْهِ لِيَقْتُلَاهُ کہ یہ روایت کی گئی ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی علیم کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔اس پر آپ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیر کو بھیجا تا کہ اسے قتل کر دیں۔اس روایت کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں اس شخص کے رسول لله صل ال یکم پر افتراء کا ذکر ہے، کسی سب و شتم اور توہین و تنقیص کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اس لئے اسے توہین رسول کے مسئلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ روایت نہ صحاح ستہ میں ہے اور نہ ہی کتب حدیث کے دوسرے یا تیسرے درجے کی کتب میں ہے۔پھر ڈوی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اس کا راوی مجہول ہے۔یعنی نہ اس کے نام کا ذکر ہے نہ اس کی کسی اور شناخت کا۔یا اس کا راوی ہے ہی کوئی نہیں ، یعنی یہ خود تراشیدہ روایت ہے۔نیز اس روایت کے جھوٹا ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ یہ روایت مبینہ طور پر مصنف عبد الرزاق سے لی گئی ہے۔( شرح الشفاء القسم الرابع فی بیان معصوفی حقہ علیہ السلام سب او نقص صفحہ 406) بعینہ اس سے ملتی جلتی ایک اور من گھڑت روایت بیہقی میں بھی درج ہے کہ انصار کی بستیوں میں سے ایک شخص کسی بستی میں آیا اور اس نے لوگوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی یم نے مجھے فلاں عورت سے شادی کرنے کا کہا ہے۔یہ بات آپ کو معلوم ہوئی تو آپ نے علی اور زبیر رض سے کہا کہ جاؤ اور اسے پاؤ تو قتل کر دو اور تم اسے ضرور پالو گے۔پس وہ دونوں نکلے تو انہوں نے اسے اس حالت میں پایا کہ اسے سانپ ڈس کر مار چکا تھا۔( شرح الشفاء القسم الرابع في بيان ماھو فی حقہ علیہ السلام سب او نقص صفحه 406)