توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 112 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 112

***** توہین رسالت کی سزا { 112 } قتل نہیں ہے علامہ ذہبی: اسْتَقَرَّ الْإِجْمَاعُ عَلَى وَهْنِ الْوَاقْدِی“سب محققین نے واقدی کے کمزور ہونے کے متعلق اجماع کیا ہے۔علامہ ابن خلقان: ضَعَفُوهُ فِي الْحَدِيْثِ وَ تَكَلَّمُوا فِیهِ» محققین نے واقدی کو ضعیف ، قرار دیا ہے اور اس پر بہت اعتراض کئے ہیں۔علامہ زرقانی: "الْوَاقْدِى لَا يَحْتَجُ بِهِ إِذَا انْفَرَدَ فَكَيْفَ إِذَا خَالَفَ “ واقدی اگر کسی بات کے بیان کرنے میں اکیلا ہو تو محققین کے نزدیک اس کی روایت قابل حجت نہیں ہے۔پھر اس پر خود قیاس کر لو کہ ایسی بات میں اس کی روایت کا کیا وزن ہو سکتا ہے جو دوسری روایات کے خلاف ہو۔یہ شہادتیں ہیں جو متقدمین اور متاخرین نے واقدی کے بارہ میں پیش کی ہیں۔ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو واقدی کے ہمعصر ہیں اور اس کے حالات کے عینی شاہد ہیں۔الغرض خلاصہ یہ ہے کہ واقدی سب محققین کے نزدیک بالاتفاق ضعیف الروایت ہے۔اس قابل نہیں کہ اس سے کوئی روایت لی جائے۔مزید تفصیل کے لئے دیکھیں کتب میزان الاعتدال‘ ، تہذیب التہذیب، وفیات الاعیان اور شرح مواہب اللہ نیہ وغیر ہا۔