توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 111
توہین رسالت کی سزا { 111} قتل نہیں ہے ابو حاتم محمد بن اور لیس : يَضَعُ الْحَدِيثَ “ واقدی اپنے پاس سے جھوٹی حدیثیں بنا بنا کر بیان کرتا تھا۔66 علی بن عبد اللہ بن جعفر المعروف بابن المدینی: " يَضَعُ الْحَدِيثَ لَا أَرْضَاهُ فِي شَيءٍ“ واقدی جھوٹی روایتیں بناتا تھا۔میرے نزدیک وہ کسی جہت سے بھی قابل قبول نہیں۔امام علی بن محمد الدار قطنى فِيْهِ ضُعف “ واقدی کی روایتیں ضعیف ہیں۔اسحاق بن ابراہیم المعروف بابن راہویہ: هُوَ عِنْدِى مِمَّنْ يَضَعُ الْحَدِيثَ “ میرے نزدیک واقدی جھوٹی روایتیں گھڑنے والوں میں سے ایک تھا۔امام شافعی: "كُتُبُ الْوَاقْدِى كُلُّهَا كِذَبٌ كَانَ يَضَعُ الْأَسَانِيدَ “ واقدی کی سب کتابیں جھوٹ کا انبار ہیں۔وہ اپنے پاس سے جھوٹی سندیں گھڑ لیا کرتا تھا۔امام ابو داود : "لَا أَكْتُبُ حَدِيثَهُ - إِنَّهُ كَانَ يَفْتَعِلُ الْحَدِيثَ “ میرے نزدیک واقدی کی روایات مقبول نہیں۔وہ اپنے پاس سے حدیثیں گھڑ لیا کرتا تھا۔امام نسائی : الْوَاقْدِى مِنَ الْكَذَابِيْنَ الْمَعْرُوفِينَ بِالْكِذَبِ“ واقدی ایسے جھوٹے لوگوں میں سے تھا جن کا جھوٹ ظاہر اور عیاں ہے اور اسے سب جانتے ہیں۔امام نووی: ضَعِيفٌ بِاتِّفَاقِهِمْ “ واقدی سب محققین کے نزدیک بالاتفاق ضعیف الروایت ہے۔