توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 110
توہین رسالت کی سزا { 110} قتل نہیں ہے ہے۔اسے ترک کر کے عجز و انکسار، رحمت و محبت اور عفو و درگز کی راہ پر چلنا ہی اللہ تعالیٰ اور رسول مقبول صلی ایم کی مرضی ہے۔یہی اسلام کی بقا اور انسان کی اپنی روحانی زندگی کی فلاح کی اساس ہے۔واقدی کتب اسماء الرجال میں عبد الرزاق کو چونکہ واقدی سے بڑھ کر جھوٹا قرار دیا گیا ہے ، اس لئے واقدی کے حالات کا جائزہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔تا کہ موازنہ کر کے ہر قاری یہ اندازہ کر سکے کہ مصنف عبد الرزاق کو جس شخص سے زیادہ جھوٹا قرار دیا جاتا ہے ، وہ خود کیسا تھا؟ کیا اس کی پیش کردہ خلافِ قرآن و سنت رسول روایات کو قبول کیا جا سکتا ہے ؟ کیا ان پر کسی عقیدے یا قانون کی بنیاد قائم کی جاسکتی ہے ؟ اور اگر ان وضعی روایات پر کسی عقیدے یا قانون کی بنیاد رکھی جائے تو کیا وہ عقیدہ یا قانون سچا کہلا سکتا ہے ؟ ان سوالوں کا ایک ہی جواب ہو گا کہ نہیں اور ہر گز نہیں۔واقدی کا نام محمد بن عمر الواقدی تھا۔اس کا زمانہ 130ھ سے 207ھ ہے۔اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: ” مَتَرُولُ الْحَدِيثِ “ واقدی اس قابل نہیں ہے کہ اس سے کوئی روایت لی جائے۔امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: "هُوَ كَذَّابٌ يُقَدِّبُ الْحَدِيثَ “ واقدی پرلے درجہ کا جھوٹ بولنے والا شخص ہے جو روایتوں کو بگاڑ بگاڑ کر بیان کرتا ہے۔ابواحمد عبد الله بن محمد المعروف بابن عدی: "اَحَادِيْتُهُ غَيْرُ مَحْفُوْظَةٍ وَالْبَلَاءُ مِنْهُ واقدی کی روایتیں قابل اعتبار نہیں ہیں اور یہ خرابی خود اس کے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔