توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 109 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 109

توہین رسالت کی سزا { 109 | قتل نہیں ہے سزا قتل کے عقیدے کی بناء کی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے احوال کی حقیقت کا علم ہونے کے بعد عملاً باقی روایتوں پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔رواۃ کے حالات اور ان کی چھان پھٹک پر مشتمل ایک بنیادی اور مستند کتاب تہذیب التہذیب، میں ان کے متعلق لکھا ہے: "وَقَالَ العَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ أَنَّهُ لَكَذَّابٌ وَالْوَاقِدِئُ أَصْدَقُ مِنْہ کہ عباس العنبری کہتے ہیں کہ یہ ایسا جھوٹا ایسا کذاب انسان ہے کہ واقدی بھی اس کے مقابل پر بہت سچا دکھائی دیتا ہے۔واقدی وہ مورخ ہے جس نے بے تحاشا زیادہ رطب و یابس تاریخ اسلام کے حوالے سے اکٹھا بھی کیا ہے اور اپنی طرف سے نیاتر اشا بھی ہے۔اسی لئے مغربی مصنف اسے سب سے زیادہ چاہتے ہیں اور اس سے اخذ کرتے ہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی لی یکم اور اسلام پر حملوں کے لئے جو منفی طرز کا مواد انہیں درکار ہے ، وہ انہیں واقدی سے مل جاتا ہے۔چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ عباس العنبری کہتے ہیں کہ یہ عبد الرزاق، جس کی یہ روایتیں ہیں اتنا جھوٹا انسان ہے کہ واقدی کو اس کے مقابل پر دیکھو تو واقدی سچا دکھائی دیتا ہے۔پھر زید ابن المبارک کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔"كَانَ عَبْدُ الرَّزَّاقُ كَذَاباً يَسْرِقُ الْحَدِيثَ (تہذیب التہذیب، الجزء الخامس صفحہ 216 حرف العین من اسمه عبد الرزاق) کہ وہ صرف کذاب ہی نہیں تھا بلکہ دوسروں کی حدیثیں بھی چوری کیا کرتا تھا اور انہیں اپنی طرف سے منسوب کر دیا کرتا تھا۔عبد الرزاق اور واقدی جیسے جعلسازوں اور وضاعوں کے مجموعوں سے جہاں دشمنان اسلام مواد لے کر رسول اللہ صلی الی یم ، اور اسلام پر جی بھر کے بے دریغ حملے کرتے ہیں، وہاں انہی ا وضعی اور جعلی روایات کو آج کے متشرد مسلمان علماء توہین رسول کے مر تکب کے قتل کے حق میں فتوؤں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا منبع ہی جھوٹا اور وضعی ہے ، جو عملاً اسلام کے حسین چہرے اور رسول اللہ صلی الی یکم کی پاک سیرت پر خون کے دھبے لگانے والا