توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 97 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 97

توہین رسالت کی سزا ( 97 ) قتل نہیں ہے بن ابی اولیں، عاصم بن علی اور عمرو بن مرزوق و غیرہ اور امام مسلم نے سوید بن سعید سے دلیل لی وو ہے اور دیگر کئی ایک سے بھی جن پر طعن کیا گیا تھا۔کتاب ” الرفع والتكميل۔۔۔۔۔۔کی اصل عبارت یہ ہے: وو۔۔۔۔۔وَلِذَلِكَ احْتَجَّ الْبُخَارِثُ بِجَمَاعَةٍ سَبَقَ مِنْ غَيْرِ الْجَرْحِ فِيْهِمْ كَعِكْرَمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ وَاسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أَوَيْسٍ، وَعَاصِمِ بْنِ عَلِيَّ، وَ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ وَ غَيْرِهِمْ - وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِسُوَيْدِ بْنِ سَعِيدِ ، وَجَمَاعَةِ اشْتَهَرَ الطَّعْنُ فِيْهِمْ۔“ (باب المرصد الاؤل، فيما يقبل من الجرح والتعديل وما يقبل منهاو تفصيل المفسر والمتهم فيهما۔صفحہ 93۔الطبعة الثامنة بیروت 2004ء) چونکہ حضرت امام بخاری نے ان بعض مطعون لوگوں کی روایات بھی درج کی ہیں اس لئے بعد میں آنے والے دیگر ائمہ حدیث نے بھی بغیر تحقیق اور چھان بین کی ضرورت سمجھے ان کی ہر روایت قبول کر لی۔ان مطعونوں میں ایک عکرمہ مولیٰ ابن عباس بھی ہے۔مگر جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امام بخاری نے محض روایت نہیں لی بلکہ دونوں ابواب میں اس روایت کو قرآن کریم کے مطابق اور رسول اللہ صلی ال یکم کی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق پر کھنے کے لئے ہر صاحب علم اور محقق کے لئے رہنما آیات اور روایات پیش کر دی ہیں تاکہ روایت کو اس کی درایت کے مطابق بھی پر کھنے اور اس کے سچا یا جھوٹا ہونے کا فیصلہ ہو سکے۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ایک زمانہ روایات کے جمع کرنے کا تھا۔اس وقت جمع کرنے والوں نے اپنے اپنے اصولوں اور معیاروں کے مطابق روایات جمع کیں۔بعد میں آنے والوں نے ایک طرف جہاں ان روایات کو بغیر چھان بین کے لیا ہے وہاں اس کے بالمقابل بعد میں آنے والے محققین نے ان روایات پر خاطر خواہ جرح بھی کی ہے۔انہوں نے روایات کو پر کھنے اور ان کی چھان پھٹک کرنے کے اصول بھی وضع کئے ہیں اور راویوں کے حال احوال،