توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 81
توہین رسالت کی سزا :7 { 81 } گالیاں دینے والی ایک عورت قتل نہیں ہے روایت ہے کہ ایک عورت حضور می یی کم کو گالیاں دیتی تھی۔آپ نے فرمایا: من يَكْفِينِي عَدُوّی کہ میرے لئے میرے دشمن کو کون کفایت کرے گا؟ حضرت خالد نے عرض کی یارسول اللہ : میں۔اس پر آپ نے اجازت دی اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔“ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَرُوِيَ أَيْضًا أَنَّ امْرَأَةٌ كَانَتْ تَسُبُّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَقَالَ مَنْ يَكْفِيْنِي عَدُوّى فَخَرَجَ إِلَيْهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدُ فَقَتَلَهَا۔“ ( شرح الثفا: القسم الرابع في بيان ماھو فی حقہ علیہ السلام سبّ او نقص صفحه 406) ترجمہ : اور یہ روایت کی گئی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ ہم کو گالیاں دیتی تھی۔آپ نے فرمایا! کون ہے جو میرے لئے میرے دشمن کے مقابل پر کافی ہو گا۔اس کے لئے خالد بن ولیڈ روانہ ہوئے اور اسے قتل کر دیا۔کوئی ایک لمحے کے لئے ذرا سوچے تو سہی کہ وہ لوگ جو بدر ، احد ، احزاب، خیبر ، حسنین اور موتہ جیسے غزوات میں طاقت و تعداد میں اپنے سے کئی گنا زیادہ افواج سے ٹکرانے والے تھے اور سلطنتوں کو فتح کرنے والے تھے ، ایک عورت کی گالیوں سے پریشان ہو رہے تھے !! اس جملہ معترضہ کے بعد عرض ہے کہ جیسا کہ واضح ہے یہ روایت صحاح ستہ میں سے کسی مجموعے میں نہیں ہے ، احادیث کے دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے مجموعوں میں بھی نہیں