توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 49
توہین رسالت کی سزا ( 49 ) قتل نہیں ہے درجے کی انگیخت پیدا ہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جاکر اور کعبے کے پر دے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر اُن سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام کو سطح دنیا سے مثانہ دیں گے ، اُس وقت تک چین نہ لیں گے۔(فتح الباری، کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ملے میں یہ آتش فشاں پیدا کر کے اس نے دوسرے قبائل عرب کا رخ کیا اور قوم بقوم پھر کر انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا یا۔(زرقانی ، قتل کعب بن الاشرف) اس نے واپس آکر مدینے میں مسلمان خواتین پر تشبیب کہی۔یعنی اپنے جوش دلانے والے اشعار میں نہایت گندے اور فحش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا۔(ابن ہشام ، مقتل کعب بن الاشرف) حتی کہ خاندانِ بنوت کی مستورات کو بھی اپنے ان بیہودہ اشعار کا نشانہ بنانے سے دریغ نہ کیا۔(طبری ، سن 3ھ ، خبر کعب بن الاشرف و الروض الانف، مقتل کعب بن الاشرف) ملک میں ان اشعار کا چرچا کر وایا۔اس کی ان شاعرانہ تشبیبی کارروائیوں کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ آنحضرت صلی ایل ، اہل بیت کی تضحیک کرے، لوگوں کو مسلمانوں سے متنفر کرے اور ان کے دلوں میں دشمنی بھرے۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد بالآخر اس نے آپ کے قتل کی سازش کی۔آپ کو کسی دعوت وغیرہ کے بہانے سے اپنے مکان پر بلا کر بعض نوجوان یہودیوں سے آپ کے قتل کا منصوبہ باندھا۔مگر خدا کے فضل سے آپ کو وقت پر اس کی نیت کی اطلاع ہو گئی اور اُس کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوئی۔(تاریخ الخمیس، سریہ محمد بن مسلمہ لقتل كعب بن الاشرف و زرقانی ، قتل کعب بن الاشرف) جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت، تحریک جنگ ، فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تب آنحضرت صلی لی ہم نے اس کے خلاف فیصلے کا ارادہ فرمایا۔آپ اس بین الا قوام معاہدے کی رُو سے جو مدینے میں آپ کی تشریف آوری کے بعد اہالیانِ مدینہ میں ہوا تھا، مدینے کی جمہوری سلطنت کے صدر اور حاکم اعلیٰ تھے۔آپ نے کعب بن اشرف کو اس کی مذکورہ بالا محاربانہ اور باغیانہ کارروائیوں کی وجہ سے اپنے فیصلے میں قتل کا سزاوار قرار دیا۔