توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 349
توہین رسالت کی سزا 349 | قتل نہیں ہے اس رحمت کے سلوک کے پیش نظر آپ کے کریمانہ عمل سے یہ نتیجہ اخذ کر نا چنداں مشکل نہیں کہ اگر قتل ہونے والے بھی آپ کی خدمت میں پیش ہو کر معافی کے طلبگار ہوتے تو آپ ان پر بھی اپنی چادر رحمت دراز کرتے ہوئے ضرور معاف فرما دیتے۔پس اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں تھی کہ آپ ہر حالت اور ہر قیمت پر عفو و در گزر کرنے والے اور انسانی خون کے محافظ تھے۔ایسے افراد جنہیں آنحضرت صلی یکم نے سزاوار قتل قرار دینے کے باوجو د معافی دی، مسلمانوں کے خلاف جرائم میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔بعض وہ بھی تھے جو جنگوں میں مسلمانوں کے بھاری جانی ومالی نقصان کے ذمہ دار بھی تھے۔آپ نے سب و شتم تو کیا، ان کی ساری زیادتیاں اور سب ظلم اپنے سایہ معفو ور حمت سے ڈھانپ دیئے۔ایک قابل ذکر واقعہ۔عکرمہ کی معافی چونکہ یہاں رسول اللہ صلی الیم کے سب و شتم کی سزا کی بات ہو رہی ہے ، اس لئے یہاں عکرمہ بن ابی جہل کا ذکر ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔یہ نوجوان ، آپ کے سب سے بڑے دشمن ابو جہل کا بیٹا تھا۔یہ بھی اپنی معاندت اور دشمنی میں کسی سے کم نہ تھا۔اس کی وجہ سے مسلمانوں نے بہت دُکھ اُٹھائے تھے۔اس کے لئے بھی آپ نے سزائے موت کا فرمان جاری فرمایا تھا۔وہ اسی کے خوف سے یمن کی طرف بھاگ گیا تھا۔اس کی بیوی ام حکیم بنت الحارث مسلمان ہو چکی تھیں۔وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں: ” آپ عکرمہ کو معاف کر دیں۔تا کہ وہ مکہ واپس آسکے۔“ ان کی اس درخواست پر آپ نے عکرمہ کو معاف فرما دیا۔چنانچہ وہ اپنے خاوند کی تلاش میں نکلیں۔ساحل سمندر پر پہنچیں تو جہاز لنگر اُٹھا چکا تھا مگر ابھی ساحل سے دور نہ ہو ا تھا۔انہوں نے اپنا دوپٹہ ایک لمبی لکڑی پر باندھا اور اُسے ہوا میں لہرایا۔یہ