توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 335
توہین رسالت کی سزا { 335 ) قتل نہیں ہے وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔وہ نہ چلائے گا نہ شور کرے گانہ بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی۔وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔وہ راستی کے ساتھ عدالت کرے گا۔( یسعیاہ: باب 42: آیت 2 تا 4) تورات میں رسول اللہ صلی اللی کم کی بابت علامات کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرو سے پوچھا گیا تو آپ نے بتایا: ”وہ نبی تند خو اور سخت دل نہ ہو گا۔وہ بازاروں میں شور نہ کرے گا۔وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دے گا بلکہ عفو و در گزر سے کام لے گا۔“ (بخاری کتاب البیوع باب کر اہمیت الشعب في الاسواق) حضرت یسعیاہ کی اس پیشگوئی میں مسلے ہوئے سرکنڈے سے مراد وہ بے بس اور بے کس لوگ ہیں جو حالات کی ستم ظریفیوں کے پسے ہوئے ہوں ، وہ نبی ان کی دستگیری فرمائے گا اور ٹمٹماتی ہوئی بتی سے مراد وہ لوگ ہیں جو تباہی کے کنارے کھڑے ہیں ، وہ انہیں اس تباہی سے اس طرح بچالے گا کہ ان کی شمع حیات بجھ نہ پائے گی۔حضرت یسعیاہ کی بیان فرمودہ یہ صفات رسول اللہ صلی الیمی کی زندگی کے لمحے لمحے میں اپنی کمال تابانی سے اس طرح جلوہ گر ہیں کہ ان کا فیض ہر ایک کو پہنچتارہا ہے۔دعوت حق کے لئے جارحیت سے گریز کی خواہش: رسول اللہ صلی الی ظلم کے سپر د اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا تھا۔اس فرض کی ادائیگی کے لئے آپ ذرہ بھر مخاصمت سے بھی گریز فرماتے تھے۔چنانچہ ایک بار افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: "الاَرَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا مَنَعُوْنِ أَنْ أَبَدِّغَ كَلَامَ ربي (ابو داؤد کتاب السنۃ باب فی القرآن و ترمذی باب فضائل القرآن باب كيف كانت قرآة النبي صال ) یعنی