توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 309 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 309

توہین رسالت کی سزا باب ونیم 309 | قتل نہیں ہے رسول اللہ صلی علیم کی سیرت پاک کا ایک حقیقت افروز تجزیاتی مطالعہ ***** رسول اللہ صلی علیکم کے بچپن کے حالات کو بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ دستیاب نہیں ہیں مگر پھر بھی سیرت نویسی کے جملہ تقاضوں کی بھر پور تشفی کے لئے آپ کے بچپن سے نبوت تک کے حالات مستند اور تسلی بخش حد تک محفوظ ہیں۔نیز یہ بھی ایک الگ حقیقت ہے کہ آپ کی ابتدائی زندگی کے واقعات اتنی تفصیل کے ساتھ دستیاب ہیں کہ گزشتہ انبیاء میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ ایک سیرت نویس جب تحقیق کے بچے تقاضے پورے کرتا ہے تو آپ کے بچپن اور دور جوانی کے حالات میں بھی صبر و تحمل، عفوو درگزر اور حسن اخلاق ہی کو آپ کے جملہ افعال و اعمال اور اقوال پر غالب پاتا ہے۔وہ انتہائی کوشش کے باوجود بھی آپ کی سوانح میں آپ کی کوئی منفی عادت نہیں ڈھونڈھ سکتا۔آپ کا ہر قول اور فعل چاہے وہ نبوت سے پہلے کا تھا یا بعد کا، مثبت ہی نہیں، غیر معمولی مثبت تھا بلکہ ایک ایک قول اور ایک ایک فعل خوبی و دلکشی میں سوا تھا۔کسی شخص کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیات کا اندازہ لگانے کے لئے یہ طریق کافی ہے کہ اس کے بچپن اور جوانی کے حالات کا جائزہ لیا جائے۔اگر تو ابتداء ہی سے وہ شخص زود رنج ، غصیلا ، تو تکار کا عادی ، جارحیت سے پر اور لڑنے بھڑنے پر آمادہ ہو تو اس کی بچپن اور شباب کی عمر میں اس کے اگر کافی نہیں تو چند ایک واقعات ضرور مل جاتے ہیں، جو نشاند ہی کرتے ہیں کہ وہ اپنی طینت اور فطرت ہی میں ایسی عادتیں رکھنے والا تھا۔مگر جہا تک رسول اللہ صل الیکم کی خلق عظیم پر استوار