توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 295
توہین رسالت کی سزا ( 295 ) قتل نہیں ہے کسی کو محض اس کے سب و شتم کی وجہ سے قتل نہیں کیا بلکہ معمولی سی بھی سزا نہیں دی۔یہ تو محض خاص مزاج کے علماء ہیں جو ایسی آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے۔اکثر اوقات ایسے علماء کے ساتھ وقت کی حکومتیں بھی کار فرما نظر آتی ہیں جو اپنے مخصوص مسائل کا حل سمجھتے ہوئے ایسے ظالمانہ نظریات کی پشت پناہی کرتی ہیں اور ان کی تشہیر و نفاذ میں مدد کرتی ہیں۔یہ مخصوص طبقہ ہر گز امت کا سوادِ اعظم نہیں ہے۔لہذا اس مسئلے پر امت کا قطعی طور پر اجماع نہیں ہے۔آپ اس موضوع پر تمام کتابوں کا جائزہ لے لیں تو آپ کو خاص مکتبہ فکر کے اور خاص مزاج کے محض چند لوگ ہی نظر آئیں گے جو یہ نعرہ بلند کر رہے ہوں گے۔اس لئے محمد بن سحنون ہوں یا قاضی عیاض، الصارم المسلول۔۔۔۔۔کے مصنف ہوں یا بعد کے چند نقال مصنفین، جب اجماع کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ محض ایک دھونس کی بنیاد پر کرتے ہیں۔جو نظائر اور ثبوت وہ اس کے حق میں دیتے ہیں، بالکل کھو کھلے، بودے اور بے بنیاد ہیں۔جیسا کہ ان کی علمی اور حقیقی حیثیت روایات والے باب سے بالکل واضح اور عیاں ہے۔ایسی کتابوں میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی سب اس سے متفق ہیں۔لہذ اساری امت کا اس پر اجماع ہے۔ایسا بیان محض ایک دھو کہ اور ڈھٹائی ہے۔حقیقت۔ہے کہ ائمہ اربعہ میں سے امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل کے مسلک کو بیان کیا جا چکا ہے کہ وہ خود اس سے متفق نہیں تھے۔امام مالک اور امام شافعی سے بھی کسی مستند صحیح روایت سے یہ ثابت نہیں ہے۔علمائے سلف نے اگر اس مسئلے پر قلم اٹھایا ہے تو ان کی نیت پر ہمیں کسی قسم کا اعتراض نہیں۔ہر ایک اپنا موقف اختیار کر سکتا ہے۔انہوں نے اپنے موقف کے حق میں جو مواد پیش کیا