توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 283
توہین رسالت کی سزا اله { 283 ) قتل نہیں ہے اس کتاب کی بنیاد اور غرض کے جو چار پہلو بتائے گئے ہیں ، وہ اس موقع پر بھی پورے نہیں ہو سکے۔جس سے عملاً یہ کتاب اسی وقت رڈ کر دی گئی تھی۔یعنی وہ عیسائی خواہ جان بچانے کی غرض سے ، منافقت سے یا حقیقی ایمان کی وجہ سے مسلمان ہوا، یہ سزا اس سے ساقط کر دی گئی اور اسے قتل نہیں کیا گیا۔یعنی کتاب کی غرض یہ تھی کہ شاتم رسول کو بہر حال قتل کیا جائے گا، قابل عمل نہ سمجھا گیا۔(۵ آئیں ہیں۔(۶ اس کتاب میں جو علم و فضل ہے اس کا کسی حد تک حال ہم گزشتہ صفحات میں واضح کر محمد یوسف کو کن صاحب کی اس تحریر کو آج اپنے وطن عزیز کے حالات پر پیش کریں تو اس وقت کے دمشق کا اور یہاں کا منظر بعینہ ایک ہی ہے۔کسی شخص پر تہمت بھی جھوٹی لگائی جاتی ہے ، بلوہ بھی کیا جاتا ہے، ایک شخص کو ملزم قرار دے کر جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات ماورائے عدالت جان سے مار دیا جاتا ہے۔ہاں کوئی ملزم اگر بچ جائے اور اس کا مقدمہ عدالت میں پہنچ جائے تو عدالت میں وہ الزام بھی جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور ملزم قتل سے بیچ بھی جاتا ہے۔الغرض نو سو سال بعد بھی ماحول اور فضاو ہی ہے جو غاصبانہ، ظالمانہ اور متشددانہ ہے۔یہ باب ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ کتاب "الصارم المسلول“ کی بجائے کثرت سے قرآن کریم اور سنت و احادیث نبویہ کی امن و سلامتی اور عفو و در گزر والی تعلیمات کی ترویج دی جائے۔اسلام کا اصل اور سچا ورثہ یہ ہے۔*****