توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 277 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 277

توہین رسالت کی سزا (277} قتل نہیں ہے اب پیغمبر (صلعم) نے فتنے کے دفع کرنے کیلئے اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کا قانون خدا کے نام سے شائع کیا اور اس وقت سے یہ قاعدہ آپ کے (نعوذ باللہ ) خونی مذہب کا نعرئہ جنگ ہو گیا۔“ وہ دشمنانِ اسلام جو آنحضرت صلی یم کے شدید ترین معاندین میں شمار ہوتے ہیں۔بُغض و عناد سے جن کے سینے کھولتے ہیں۔جو نفرت کی آگ میں جلتے ہیں اگر وہ آنحضرت علی ای یم پر جبر کا الزام لگائیں تو تعجب نہیں۔غم تو بہت ہوتا ہے مگر تعجب نہیں۔ہاں تعجب ان پر ہے اور حیف اُن پر جو اس معصوم اور مظلوم رسول صلی علیکم کی پیروی کا دم بھر کر بھی آپ کی مقدس ذات پر بربریت کا الزام لگانے کی جسارت کرتے ہیں۔( کم و بیش یہ تین صفحے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفہ المسیح الرابع کی کتاب ” مذہب کے نام پر خون“ سے ماخوذ ہیں۔“) ایک سنہری اصول، ایک قیمتی سبق: یہ سچائی کس طرح ترک کی جاسکتی ہے کہ قتل کرنے سے توہین کرنے والا شاتم اور گستاخ تو قتل ہو کر مر جاتا ہے مگر اس کی گالی یا اس کی بات جو وہ کر گیا ہے ، وہ اس کے قتل سے نہیں ملتی۔وہ تو ہین اس کے قتل کے باوجود قائم اور باقی رہتی ہے۔ہاں سازشوں اور فتنوں کے لیڈر یا سرغنے جو کہ چند ایک ہوتے ہیں، اگر مارے جائے تو ان کی موت کے ساتھ سازشیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔اس لئے رسول اللہ صلی علیم نے کبھی بھی ایسے لوگوں کے قتل کا حکم نہیں فرمایا جو آپ کی توہین یا آپ پر سب و شتم کے مرتکب ہوئے تھے۔ہاں ان معدودے چند ایک کو سزائے موت دی جو فتنوں کے بانی مبانی تھے یا دیگر بڑے قومی جرموں کے مر تکب تھے۔کیونکہ ان کے منظر سے ہٹ جانے سے یہ جرم پھلنے پھولنے اور پھیلنے سے رک جاتے ہیں بلکہ اکثر ختم ہو جاتے ہیں۔اس طرح کثرت سے عام لوگ قتل و خون سے بچ جاتے ہیں۔لیکن توہین کرنے والے کو اگر