توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 256 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 256

توہین رسالت کی سزا 256 | قتل نہیں ہے قتل کیا جاتا ہے )۔یعنی کسی نہ کسی بہانے کوئی جواز نکالا جاتا ہے۔ساری کتاب میں روایات اور استدلالات سے اسی طرح کھیلا گیا ہے اور ہر روایت کو پر کھنے کا معیار الگ الگ بنایا گیا ہے۔اس واقعے کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب صحابہ نے سنا کہ یہودی نے السَّامُ عَلَيْك کہا تو صحابہ نے اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی۔جو آپ نے نہیں دی۔اس پر تبصرہ یہ کیا گیا ہے کہ اس سے یہ بہر حال ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ ایسی گستاخی کی سزا قتل سمجھتے تھے۔مگر رسول اللہ صلی الیم نے چونکہ منع کر دیا اس لئے انہوں نے قتل نہ کیا۔یہ تضاد ہے جو اس واقعے پر بحث میں موجود ہے جو اس کتاب میں کی گئی ہے۔ایک طرف یہ کہا جارہا ہے کہ یہ گالی ایسی نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے قتل کیا جاتا اور دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ ایسی گستاخی کی سزا قتل سمجھتے تھے۔(ایضا صفحہ : 150 تا 152) یعنی صحابہ کے نزدیک وہ گالی اس معیار کی تھی کہ جس کی وجہ سے وہ یہودی واجب القتل تھا۔یہاں گالیوں کا معیار بھی زیر بحث ہے کہ کس معیار کی گالی ہو تو عہد ٹوٹے گا اور اس کی بناء پر وہ شاتم قتل کیا جائے گا۔گالی اس معیار سے کم ہو گی تو عہد نہیں ٹوٹے گا لہذاوہ قتل نہیں کیا جائے گا۔یہاں یہ بحث تو نظر آتی ہے مگر یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ گالی کے معیار کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس پر کسی فیصلے کو نہ پاکر ہر قاتل تلوار اٹھائے پھر تا ہے اور اپنا فتوی صادر کر کے کشت وخون کی ہولی کھیلتا چلا جاتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی ال نیم کے فیصلے کو قبول نہ کر کے یا اس پر اپنے من پسند جوازوں کے پر دے ڈال کر آپ کی منشاء کے بر خلاف بحثوں میں الجھ گئے ہیں اور قتل و خون کو آپ کی طرف منسوب کرنے کی جسارت کرتے چلے جاتے ہیں۔