توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 244 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 244

توہین رسالت کی سزا { 244} قتل نہیں ہے شخص کے میں اونٹ بیچنے آیا۔ابو جہل نے وہ اونٹ اس سے خرید لئے۔مگر اونٹوں پر قبضہ لینے کے بعد قیمت ادا کرنے میں حیل و حجت کرنے لگا۔اس پر اراشہ جو مکے میں ایک اجنبی اور بے یار و مدد گار تھا، بہت پریشان ہوا۔چند دن تک ابو جہل کی منت و سماجت کرنے کے بعد آخر ایک دن جبکہ بعض رؤساء قریش خانہ کعبہ کے پاس مجلس جمائے بیٹھے تھے ، وہ ان لوگوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: ” اے معززین قریش! آپ میں سے ایک شخص ابو الحکم نے میرے اونٹوں کی قیمت دبار کھی ہے۔آپ مہربانی کر کے مجھے یہ قیمت دلوا دیں۔“ قریش کو شرارت جو سو جبھی تو کہنے لگے : ” ایک شخص یہاں محمد بن عبداللہ نامی رہتا ہے تم اس کے پاس جاؤ۔وہ قیمت دلا دے گا۔“ ان کی اس سے غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ کی تو بہر حال انکار ہی کریں گے اور اس طرح باہر کے لوگوں میں آپ کی سبکی ہو گی۔جب اراشہ وہاں سے رخصت ہوا تو قریش نے اس کے پیچھے ایک آدمی کر دیا کہ دیکھو کیا تماشہ بنتا ہے۔چنانچہ اراشہ اپنی سادگی میں آنحضرت مصلی للی نیم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ” میں ایک مسافر ہوں اور آپ کے شہر کے ایک رئیس ابو الحکم نے میری رقم دبا رکھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ مجھے یہ رقم دلواسکتے ہیں۔پس آپ مہربانی کر کے مجھے میری رقم دلوادیں۔“ آپ فوراً اٹھے اور فرمایا : ” چلو ، میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔“ چنانچہ آپ اسے لے کر ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازے پر دستک دی۔ابو جہل باہر آیا تو آپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور خاموشی سے آپ کا منہ دیکھنے لگا۔آپ نے فرمایا: ” یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پیسے آپ کی طرف نکلتے ہیں۔یہ ایک مسافر ہے آپ اس کا حق کیوں نہیں دیتے ؟“ اس وقت ابو جہل کا رنگ فق ہو رہا تھا۔کہنے لگا: " محمد ! ٹھہرو، میں ابھی اس کی رقم لا تا ہوں۔“ چنانچہ وہ اندر گیا اور اراشہ کی رقم لا کر اسی وقت اس کے حوالے کر دی۔