توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 224
توہین رسالت کی سزا 224 | قتل نہیں ہے گالی جھوٹ کی کوکھ سے جنم زدہ قابل رو چیز ہے۔بلکہ گالی کا معنی ہی ایسی بُری بات ہے جو خلاف واقعہ ہو۔دراصل قتل شاتم کے مدعی ایک دفعہ غلط موقف کے پیچھے چلے ہیں کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا۔مگر جب دوسری جانب انہیں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ آنحضرت صلی ا تم نے کثرت کے ساتھ بلکہ مجموعی طور پر ہی اصل شاتمین کو معاف کر دیا تھا تو اپنے اس موقف کو سچا ثابت کرنے کے لئے ان واقعات کی ایسی ایسی توجیہات ڈھونڈھتے ہیں جن کا ان سے کوئی جوڑ ہے نہ آپس میں کوئی نسبت۔علاوہ ازیں جہانتک مستند روایات اور صحیح ترین تاریخی ریکارڈ کا تعلق ہے وہ ہمیں یہ قطعی ثبوت مہیا کرتا ہے کہ کفارِ مکہ کو فتح مکہ کے روز یہ معافی بیعت سے یعنی ان کے قبول اسلام سے پہلے عطا کی گئی ہے۔یہ تو آنحضرت صلی علی یم کا واضح ارشاد ہے کہ اسلام قبول کرنے سے گزشتہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔لہذا تمام گالیاں بلکہ تمام کفریہ اور شرکیہ باتیں بھی معاف ہو جاتی ہیں۔مگر یہاں یہ بھی تو ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے کہ یہ معافی ان لوگوں کے قبول اسلام سے قبل دی گئی تھی۔اس سے آفتاب نصف النہار کی طرح یہ اصول قائم ہوتا ہے کہ بیعتِ اسلام سے پہلے بھی شاتمین کو معاف کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔چنانچہ اس سے اجماع کا دعوی بھی از خود پاش پاش ہو جاتا ہے۔فتح مکہ کے منظر کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ اس وقت وہاں کے سارے مکین مسلمان نہیں تھے۔رئیس مکہ صفوان بن امیہ اور مکے کے کم و بیش دوسو مشرک غزوہ حنین میں اسلامی لشکر میں شامل تھے۔ملنے کے لوگ عام طور پر اور رؤسائے قریش خاص طور پر آنحضرت صلی للی کم کی توہین و تنقیص کے مبینہ مجرم تھے۔انہیں تو آنا فانا قتل کیا جاسکتا تھا۔لیکن نہیں کیا گیا۔اس کی